ذرائع:
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خوجستہ باقرزادہ حالیہ حملوں میں زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشترکہ امریکی۔اسرائیلی فضائی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت ان کے خاندان کے چند افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ 28 فروری کو تہران اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے مربوط فضائی حملوں کو
خطے میں حالیہ دہائیوں کی بڑی عسکری کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
منصورہ خوجستہ باقرزادہ نے 1964 میں آیت اللہ خامنہ ای سے شادی کی تھی اور ان کے چھ بچے تھے۔ وہ اپنے شوہر کے طویل دورِ قیادت کے باوجود ہمیشہ عوامی منظرنامے سے دور رہیں اور نہایت سادہ اور نجی زندگی گزارتی تھیں۔ اگرچہ ایرانی سرکاری میڈیا نے خاندان کے متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات دی ہیں، تاہم امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کے علاوہ دیگر اہلِ خانہ کی اموات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔