the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

کیا تلنگانہ حکومت کو لاک ڈاؤن مدت کے دوران جی ایچ ایم سی کے علاقے میں پراپرٹی ٹیکس ، بجلی کا بل ، واٹر بل کیلئے تین ماہ کی چھوٹ دینا چاہئے؟

بلکل دینا چاہیے
ہاں
نہیں
حیدرآباد27مئی (یواین آئی)یہ خبر ملک بھر کے ادبی حلقوں کیلئے انتہائی مایوس کن اور افسوسناک ہے کہ ملک کے عظیم مزاح نگار،کالم نگارو ادیب مجتبی حسین کا انتقال ہوگیا۔مجتبیٰ حسین کی پیدائش15 جولائی 1936ء کو گلبرگہ میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ 1956ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ جوانی سے ہی انہیں طنزومزاح کی تحریروں کا ذوق تھا جس کی تکمیل کے لیے روزنامہ سیاست سے وابستہ ہو گئے اور وہیں سے ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔ 1962ء میں انہوں نے محکمہ اطلاعات میں ملازمت کاآغاز کیا۔ 1972 میں دلی میں گجرال کمیٹی کے ریسرچ شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ دلی میں مختلف محکموں میں ملازمت کے بعد 1992ء میں سبکدوش ہو گئے۔ مجتبیٰ حسین ملک کے پہلے طنزومزاح کے ادیب ہیں جن کو حکومت نے بحیثیت مزاح نگار پدم شری کے باوقار اعزاز سے نوازا۔ مجتبیٰ حسین کے مضامین پر مشتمل 22 سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی 7 کتابیں ہندی زبان میں شائع ہویئں۔ جاپانی اور اڑیہ زبان میں بھی ایک ایک کتاب شائع کی گئی۔ انہیں 10 سے زائد ایوارڈز حاصل ہوئے جن میں غالب ایوارڈ، مخدوم ایوارڈ، کنور مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ، جوہر قریشی ایوارڈاوراور میر تقی میر ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے طویل خدمات کے اعتراف میں کرناٹک کی گلبرگہ یونیورسٹی نے 2010ء میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ مجتبی حسین کے انتقال کی خبر سے ملک کے ادبی وصحافتی حلقوں میں غم کی لہر دوڑگئی ہے۔مختلف ادبی،سماجی اور دیگر تنظیموں سے وابستہ اہم شخصیات نے مجتبی حسین کی خدمات کو یاد کیااور ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2020 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.