فلم میں اسرائیلی فوج کے 24 گمنام اہلکاروں کے انٹرویوز شامل، مصنوعی ذہانت کے ذریعے غزہ میں حملوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق سنگین الزامات
تل ابیب، 12 اکتوبر (ایجنسی): اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’نازا‘ (NAZA) میں شامل گمنام فوجی ذرائع کی شناخت ظاہر کرنے، ان کے خلاف تحقیقات کرنے اور قانونی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کے سربراہ، داخلی خفیہ ادارے شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ فلم میں انٹرویو دینے والے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی شناخت معلوم کریں اور ان کے خلاف مبینہ طور پر خفیہ معلومات افشا کرنے، مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سلامتی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی تحقیقات کریں۔
دستاویزی فلم ’نازا‘ میں اسرائیلی فوج کے 24 گمنام اہلکاروں، انٹیلی جنس افسران اور دیگر ذرائع کے بیانات شامل ہیں۔ ان افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظاموں کی مدد سے اہداف کا تعین کیا گیا اور بعض حملوں میں شہریوں کی ممکنہ ہلاکتوں کا علم ہونے کے باوجود کارروائیاں کی گئیں۔
فلم میں انٹرویو دینے والے افراد کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے ان کے چہروں اور آوازوں کو ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل
کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے فلم کو گمراہ کن اور اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں پیش کیے گئے الزامات اسرائیلی فوج اور ریاست کے خلاف منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی دستاویزی فلم میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ فوج کا مؤقف ہے کہ حملوں کے اہداف کے انتخاب اور منظوری کے حتمی فیصلے انسانی اہلکار کرتے ہیں، جبکہ فلم میں فوجی کارروائیوں کے طریقۂ کار کی غلط تصویر پیش کی گئی ہے۔
’نازا‘ کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری انعام سے نوازا گیا۔ فلم کی ہدایت کاری آسکر ایوارڈ یافتہ فلم سازوں یووال ابراہام اور ریچل زور نے کی ہے۔ فلم کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، تاہم اسرائیل میں اس کے خلاف شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔
فلم سازوں اور صحافتی آزادی کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے تحقیقات اور قانونی کارروائی کے مطالبات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد میں سامنے آنے والی معلومات اور جنگی کارروائیوں سے متعلق الزامات کی آزادانہ جانچ ضروری ہے اور صحافیوں یا ان کے ذرائع کو دھمکیوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
دستاویزی فلم نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، شہری ہلاکتوں اور خفیہ معلومات فراہم کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے بارے میں ایک نئی بین الاقوامی بحث چھیڑ دی ہے۔