پولیس میں جھوٹی شکایت کے ذریعہ پھنسانے کی کوشش۔ مجلس کی نمائندگی پر نو جوانوں کی رہائی
نظام آباد ۔ 17 جون (اعتماد نیوز ) نظام آباد ضلع کے ماکلور منڈل حدود کے مامٹر پلی۔ گتپہ موضع میں شر پسند عناصر نے دو مسلم نو جوانوں کو نام پوچھ کر مبینہ طور پر شدید زدو کوب کرنے اور پولیس سے ان نو جوانوں کے خلاف گاڑی پر رہزنی کی جھوٹی شکایت درج کراتے ہوئے حوالے کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ جس پر مجلس نظام آباد کے قائدین نے پولیس عہدیداروں سے بات کرتے ہوئے بے قصور نو جوانوں کی رہائی کو یقینی بنایا۔ تفصیلات کے مطابق نظام آباد شہر کے ہاشمی کالونی کے 21 سالہ نوجوان محمد کاشف میکا تک اور ان کا ساتھی موید خان جگتیال سے ایک موٹر سائیکل خرید کر واپس نظام آبا دلوٹ رہے تھے۔
رات تقریباً 9.30 مامر پلی ریلوے پل پہنچنے پر موٹر سائیکل میں پٹرول ختم ہو گیا۔ جس پر ان نوجوانوں نے راہگیر سے پٹرول پمپ کا پتہ پوچھنے کے دوران ایک موٹر سائیکل راں سمیت نامی نے گاڑی روک کر نام پوچھا اور ان کے نام بتانے پر اپنے بعض ساتھیوں کو طلب کر کے ان نوجوانوں کو مار پیٹ کی اور رقم چھینے کی بھی کوشش کی۔ ان نوجوانوں نے ڈائیل 100 کو فون کرنے پر پولیس وہاں پہنچ گئی۔ تب اشرار نے ہولیس سے جھوٹی شکایت کی کہ یہ نوجوان گاڑی پر چین اسلیچنگ کر رہے تھے۔ پولیس ماکلور نے دونوں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا اور موٹر سائیکل ضبط کر لی۔
اس واقعہ کی اطلاع پر جناب احمد بن عبد اللہ بلعلہ رکن اسمبلی ملک پیٹ و انچارج ضلع تنظیمی امور مجلس نے صدر ٹاون مجلس و نمائندہ ڈپٹی میئر نظام آبادمحمد شکیل احمد
فاضل، صدر ضلع مجلس محمد فیاض الدین کو نو جوانوں کی رہائی کی ہدایت دی۔ کل رات محمد فیاض الدین اور محمد شکیل احمد فاضل نے اے سی بی نظام آباد سے فون پر بات کرتے ہوئے نوجوانوں کو رہا کروایا۔ آج صبح ماکلور پولیس کی جانب سے دوبارہ دونوں نو جوانوں کو طلب کرتے ہوئے کیس درج کرنے کی اطلاع پر معتمد ٹاؤن مجلس و معاون رکن نظام آباد محمد شہباز احمد مجلسی کارپوریٹرس محمد ریاض احمد، محمد سراج احمد ، امتیاز علی، اجود اللہ خان نے متاثرہ نو جوانوں کے ارکان خاندان کے ہمراہ ماکلور پولیس اسٹیشن پہنچ کر سب انسپکٹر سے تحریری شکایت کی۔ اس موقع پر مجلسی قائدین نے بتایا کہ دو نو جوانوں کو جو ایمر جنسی کے دوران مدد کیلئے سڑک پر تھے مبینہ طور پر شرپسند عناصر نے گالی گلوچ، مار پیٹ کی اور جھوٹی شکایت پولیس میں درج کرائی۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں ڈائیل 100 کو مدد کیلئے طلب کیا جس پر شر پسند عناصر نے جھوٹ کا سہارا لے کر رہزن ہونے کی شکایت درج کرائی۔ انہوں نے شر پسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنے اور فوری نوجوانوں کی رہائی ، گاڑی کو حوالے کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ پولیس ماکلور نے صورتحال کا بغور جائزہ لے کر نو جوانوں کو رہا کر دیا اور گاڑی حوالے کر دی۔ اس موقع پر متاثرہ محمد کاشف کے بڑے بھائی شہباز علی نے بتایا کہ شر پسند عناصر کا حملہ اور جھوٹی شکایت پر پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ مجلس نظام آباد کے قائدین کو اطلاع دینے پر ان کی کوششوں سے دونوں نوجوانوں کو پولیس نے رہا کر دیا ہے اور گاڑی بھی حوالے کر دی ہے۔ انہوں نے جناب احمد بن عبد اللہ بلعلہ اور مجلس نظام آباد کے قائدین سے اظہار تشکر کیا۔