ایران یکم مارچ 2026 (اعتماد نیوز) ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی
مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ تہران میں حالیہ فضائی حملوں اور کشیدہ حالات کے دوران قیادت کی فوری منتقلی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے استحکام برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملک کو سیاسی خلا سے بچانے کے لیے راتوں رات نئے سپریم لیڈر کے نام کا اعلان کیا گیا۔