the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز
etemaad live tv watch now

ای پیپر

انگلش ویکلی

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

اس سیزن میں آئی پی ایل 2026 کی ٹرافی کون جیتے گا؟

آر سی بی
جی ٹی
نہیں کہہ سکتے
عینک ٹوٹ جانے پر 7 سالہ فلسطینی بچہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ ویڈیو وائرل

غزه - 13 جون (ویب ڈیسک) اپنے چشمہ کے ٹوٹنے پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑنے والے غزہ کے 7 سالہ بچے ایوب جنید کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک کروڑ سے زائد صارفین نے اسے دیکھا ہے۔ اس ویڈیو نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے درمیان بچوں کو در پیش طبی بحران کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایوب کی نزدیک کی نظر شدید کمزور ہے۔ دو سال کی عمر میں تیز بخار کے بعد اسے یہ کمزوری لاحق ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اس کے خاندان کو بتایا ہے کہ اسے فوری سرجری کی ضرورت ہے، لیکن غزہ کی ناکہ بندی نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔ اس کے آنکھ کے نمبر کیلئے درکار لینس اب غزہ کے اندر دستیاب نہیں ہیں۔ غزہ تنازع میں بے گھر ہونے والی ، ایوب کی سالہ والدہ ایمان جنید نے دی گارڈین کو بتایا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملنے والا نیا چشمہ بھی اس کے بیٹے کی ضرورت کے مطابق صحیح نمبر کا نہیں ہے۔

 سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اپریل کے اواخر کی ہے جب خاندان کے ایک رکن کے ساتھ ملبے سے بھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ، ایوب گر گیا تھا۔ اس کا چہرہ زمین سے جا ٹکرایا ، جس کے باعث اس کا چشمہ ٹوٹ گیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور مایوسی کے عالم میں ان ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اپنے چشمے کے بغیر، ایوب بمشکل حرکت کر سکتا تھا۔ اس نے تین دن سے زیادہ وقت تک خیمے سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے کیلئے زمین کے قریب جھک کر بیٹھا رہا۔ رشتہ داروں کی طرف سے



ٹوٹے ہوئے چشمے کو ٹھیک کرنے  کی بار بار کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جھٹکے یا گرنے سے اس کے پردہ چشم کو مستقل نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے یہ سات سالہ بچہ دوسرے بچوں کی طرح کودنے، کھیلنے یا آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہے۔

 ویڈیو میں ایوب اپنی والدہ سے پوچھتا ہے کہ میں ان کی طرح اسکول کیوں نہیں جا سکتا ؟ ایوب کی مثال، پورے محصور غزہ میں آنکھوں کی دیکھ بھال کے نظام کی تباہی اور بدحالی کی عکاسی کرتا ہے۔ غصہ شہر میں آنکھوں کے امراض کا سرکاری اسپتال، جو شہر میں آنکھوں کی دیکھ بھال کا واحد سرکاری مرکز ہے، عارضی طور پر بند ہے۔ صحت کے حکام کا تخمینہ ہے کہ تقریبا 2 ہزار بچوں کو فوری طور پر غزہ سے طبی بنیادوں پر نکالنے کی ضرورت ہے۔ 2 ہزار سے زائد مریضوں کو آنکھوں کی فوری سرجریوں کی ضرورت ہے جن میں کارنیا کی پیوند کاری، کالا موتیا کے آپریشن، اور تعمیری طریقہ ہائے کار شامل ہیں، جبکہ 2800 مریض سفید موتیا کی سرجری کے انتظار میں ہیں۔ 

اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر حسام داؤد نے بتایا کہ یہ طبی مرکز جنگ سے پہلے کی اپنی گنجائش کے مقابلے صرف 60 فیصد پر کام کر رہا ہے کیونکہ اسرائیل مسلسل طبی آلات اور جراحی کے اوزاروں کی آمد کو روک رہا ہے۔ فلاحی تنظیم ایمر جنسی کے سرجن ڈاکٹر اسردی میماج نے کہا کہ القرارہ میں ان کے کلینک میں تقریباً 40 فیصد مریض 12 سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بچہ جس کا چشمہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ طویل عرصے تک عملی طور پر بینائی سے محروم رہ سکتا ہے کیونکہ نیا چشمہ ملنا ناممکن ہوگیا ہے۔
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/
https://www.owaisihospital.com/
http://web.archive.org/web/20260124084930/https://www.darussalam.bank.in/

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2026 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.