ذرائع:
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی بحران کے اثرات حیدرآباد اور تلنگانہ میں بھی محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ مرکزی وزارتِ پیٹرولیم نے گھریلو ایل پی جی سپلائی کو ترجیح دینے کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ حکومت کی ہدایات کے مطابق ریفائنریوں کو اضافی ایل پی جی پیداوار گھریلو استعمال کے لیے مختص کرنے اور پروپین و بیوٹین کو بھی اسی شعبے میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایل پی
جی سلنڈر کی بکنگ کے لیے 25 دن کا لازمی وقفہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے۔ گریٹر حیدرآباد میں ڈسٹری بیوٹرز نے “ڈومیسٹک فرسٹ” پالیسی اختیار کر لی ہے، جس کے باعث ریستورانوں اور دیگر تجارتی اداروں کو جلد گیس کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اسپتالوں اور رہائشی اسکولوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور غیر ضروری فون کالز کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے گیس سلنڈر بک کریں۔