ایٹانگر، 4 جون (یو این آئی ) ارونا چل پردیش کے دارالحکومت ایٹا نگر کے کیپیٹل ریجن کی ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کو ایک بڑی قانونی مہم کے تحت شہر کے تین مختلف علاقوں (سی سیکٹر، گنگا اور گوہ پور ) میں واقع جامع مساجد کو سیل کر دیا ہے ۔ ان مساجد پر بغیر کسی قانونی منظوری، رجسٹریشن اور مطلوبہ اجازت ناموں کے چلائے جانے کا الزام ہے ۔ ایٹانگر کیپیٹل ریجن کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ٹو کو بابو نے اس تادیبی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قدم ارونا چل پردیش انڈ میجینس یوتھ آرگنائزیشن کی جانب سے 13 جنوری 2026 کو سونے گئے ایک احتجاجی میمورنڈم کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ نوجوانوں کی اس تنظیم نے الزام لگایا تھا کہ دارالحکومت کے علاقے میں کئی مذہبی مقامات حکام کی اجازت کے بغیر غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری کو ارسال کی گئی اپنی فصیلی رپورٹ میں بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے فوراً بعد انتظامیہ نے ایک اعلی سطح کی انکوائری شروع کی تھی۔
انتظامیہ کے مطابق، ایٹا نگر کے اسسٹنٹ کمشنر تا مودادا نے 30 جنوری کو ایک نوٹس جاری کر کے متعلقہ کمیٹیوں کو تمام کا غذات جمع کرانے کے لیے مناسب وقیت دیا تھا، لیکن مساجد کے ذمہ داران قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل سے متعلق تسلی بخش دستا ویزات پیش کرنے میں ناکام رہے ۔ دستاویزات پیش نہ کرنے پر انتظامیہ نے گزشتہ 28 مئی کو ایک آخری نوٹس جاری کیا تھا ، جس میں متعلقہ مساجد کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مجاز اتھارٹی سے رجسٹریشن اور تعمیراتی اجازت نامہ حاصل کرنے تک تمام مذہبی اور تعمیری میر گرمیوں کو فوری طور پر معطل کر دیں۔ نوٹس میں واضح وارننگ دی گئی تھی کہ مقررہ مدت کے اندر حکم کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی مزید اطلاع کے اداروں کو سیل کر دیا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ جب دی گئی مہلت ختم ہو گئی اور انتظامیہ نے پایا کہ کافی مواقع دیے جانے کے باوجود احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، تو 4 جون کو اسٹنٹ کمشنر نے بھاری پولیس فورس کے ہمراہ جا کر قانونی ضابطوں کے تحت تینوں مساجد کو سیل کر دیا۔