رملہ - 12 - جون (یو این آئی) بیت المقدس کی اعلیٰ اسلامی کونسل کے سر براہ اور مسجد اقصی مبارک کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے مسلمانوں سے مسجد اقصی مبارک کی طرف سفر تیز کرنے اور اسے نمازیوں اور مرابطین یعنی پہرے داروں سے آباد کرنے کی پرزور اپیل کی ہے اور انہوں نے اس بات پر پختہ زور دیا ہے کہ وہاں مستقل موجودگی ہی قبلہ اول کے تحفظ اور اسے قابض اسرائیل کی ناپاک سازشوں سے بچانے کا سب سے مؤثر اور بہترین ذریعہ ہے۔ شیخ عکرمہ صبری نے پریس بیانات میں وضاحت کی ہے کہ نئے ہجری سال سنہ 1448 ھ کا استقبال مسجد اقصی میں مسلم امہ کی موجودگی کو مضبوط بنانے علمی و ذکر کے حلقوں اور مذہبی دروس میں بھر پور شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متبرک احاطے میں طاعات اور عبادات کی کثرت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے پوری قوت سے اس بات کا اعادہ کیا کہ قابض دشمن کی طرف سے عائد کی جانے والی رکاوٹیں اور ظالمانہ سکیورٹی اقدامات نمازیوں کو مسجد اقصی کا رخ کرنے سے ہرگز نہ روکیں اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشقت کے ساتھ ہی اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے اور جو حص کچی کوشش اور جدو جہد کے بعد بھی وہاں پہنچنے سے روک دیا جائے وہ اپنے بچے ارادے اور نیت کا پورا اجر پاتا ہے۔
شہاب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری کا کہنا ہے کہ ہم ہجری نئے سال کے پورے ہفتے کے دوران مسجد اقصی کی طرف سفر کرنے اور اسے نمازیوں سے آباد کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور قابض دشمن کی رکاوٹوں اور ناکہ بندیوں کی بالکل پروانہ کی جائے کیونکہ مشقت بڑھنے سے اجر دو گنا ہو جاتا ہے اور اقصی میں مستقل موجودگی ہی اس کی حفاظت اور دفاع کا سب سے کارگر راستہ ہے۔ انہوں نے معصوم بچوں اور آنے والی نئی نسلوں کے دلوں میں مسجد اقصی کی لازوال عظمت کو اجاگر کرنے اور ان کا اس مقدس مقام کے ساتھ مذہبی اور قومی تعلق مضبوط بنانے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی تا کہ اس کی اسلامی شناخت کی حفاظت کی جا سکے اور اجتماعی فلسطینی شعور میں اس کے بلند مرتبے کو راسخ کیا جا سکے جو فلسطینیوں کے نصب العین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نمازیوں اور مرابطین
کے ذریعے مسجد اقصی کو مستقل آباد رکھنا قابض دشمن کی ان مکارانہ کوششوں کے خلاف پہلی دفاعی لکیر تشکیل دیتا ہے جن کے ذریعے وہ اس کے اندر نئے حقائق مسلط کرنا چاہتا ہے اور اس کے تاریخی و مذہبی مقام کو نشانہ بناتا ہے۔
یہ صورتحال قابض اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کے خلاف بڑھتی ہوئی سنگین پامالیوں کے سائے میں سامنے آئی ہے، جہاں گذشتہ مئی کے مہینے کے دوران اس کے پاک احاطوں میں علانیہ یہودی رسم و رواج اور مذہبی رسومات کی ادائیگی میں ہولناک اضافہ دیکھا گیا اور اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کی جھوٹی حاکمیت کے من گھڑت دعووں سے جڑے نئے حقائق مسلط کرنے کی بار بار مذموم کوششیں کی گئیں۔ مصدقہ اور دستاویزی حقائق کے مطابق گذشتہ مئی کے مہینے کے دوران 7244 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی پر وحشیانہ دھاوا بولا جبکہ اس کے ساتھ ہی مزید 2690 یہودی آباد کار سیاحت کے جھوٹے لبادے میں داخل ہوئے اور یہ سب ہیکل سلیمانی کی نام نہاد متشد د تنظیموں کی ان بڑھتی ہوئی مہمات کے متوازی ہوا جن میں احاطوں پر حملے تیز کرنے، قربانیاں پیش کرنے اور وہاں تلمودی رسومات ادا کرنے کی اپیلیں کی جارہی تھیں۔ اسی طرح القدس انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ایک مانیٹرنگ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ سنہ 2014 ء اور سنہ 2025ء کے درمیانی سالوں میں دھاوا بولنے والے حملہ آوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جہاں اس مطالعے میں شامل مخصوص تہواروں کے مواقع پر 3108 یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصی پر دھاوا ریکارڈ کیا گیا جبکہ سنہ 2022 ء اور سنہ 2025 ء کے درمیانی گذشتہ چار سالوں میں دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی کل تعداد کا لگ بھگ 74 فیصد حصہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مذکورہ ادارے نے توثیق کی ہے کہ قابض دشمن اپنے نام نہاد قومی و اسرائیلی تہواروں کو یہودسازی کے گھناؤنے منصوبوں کو مسلط کرنے ، مسجد اقصی پر قائم مکمل اسلامی حاکمیت کو چھینے اور اس کے مقدس صحنوں کے اندر نیا واقع مسلط کرنے کے لیے بزدلانہ طور پر استعمال کر رہا ہے تا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق پر شب خون مارا جا سکے اور ان کے اسلامی تشخص کو مٹایا جا سکے۔