ذرائع:
تلنگانہ ہائی کورٹ نے اقلیتی طلبہ کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی رقم میں تاخیر پر ریاستی حکومت کو سخت نوٹس جاری کیا ہے۔ ایس آئی او اور اسیم (ASEEM) کی جانب سے دائر PIL پر سماعت کے دوران عدالت نے محکمہ خزانہ کی لاپروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوں کا التوا غریب طلبہ کو تعلیم سے
محروم کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیس کی عدم ادائیگی پر کالجوں کا طلبہ کے سرٹیفکیٹس روکنا غیر قانونی ہے اور حکومت کے 2024 کے سرکلر پر عمل نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ بنچ نے محکمہ خزانہ کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور محکمہ اقلیتی بہبود کو شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے کا حکم دیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 مارچ 2026 کو ہوگی۔