تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد کے بنڈلہ گوڑہ، کیشوگیری کالونی میں واقع سالارِ ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کی عمارتوں کے معاملے میں موجودہ صورتِ حال کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ٹرسٹ کو عبوری راحت فراہم کی۔ٹرسٹ کی جانب سے دائر لنچ موشن پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جی ایچ ایم سی حکام ایم ایم کالونی، کیشوگیری میں سروے نمبر 62/2، 62/3 اور ٹاؤن سروے نمبر 8 میں 2,360 مربع گز اراضی پر قائم سات منزلہ عمارت کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس بی وجے سین ریڈی نے پیر کی دوپہر کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا
کہ 3 جولائی کو جی ایچ ایم سی حکام بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ٹرسٹ کے احاطے میں داخل ہوئے اور عمارت کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے انہدام کی دھمکی دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمارت کو باقاعدہ بنانے کے لیے 2016 میں دی گئی درخواست تاحال زیر التوا ہے اور اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ چونکہ بی آر ایس کے تحت داخل کردہ درخواست ابھی زیر غور ہے، اس لیے عمارت کے تعلق سے اسٹیٹس کو برقرار رکھا جائے۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی کہ معاملے سے متعلق مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 3 اگست مقرر کی گئی ہے۔