ذرائع:
تلنگانہ ہائی کورٹ نے راجنّا سرسلہ ضلع کے ویملواڑہ میں درگاہ کی منتقلی کے معاملے پر ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کی نوٹس جاری کی ہے ۔ عدالت نے ریونیو کے پرنسپل سیکریٹری، ضلع کلکٹر، وقف بورڈ کے سی ای او، ضلع ایس پی اور ویملواڑہ مندر کے ای او کو بھی فریقین کی حیثیت سے نوٹس جاری کیے۔ ساتھ ہی پہلے جاری کیے گئے عبوری حکم، جس میں سخت کارروائی سے روک دیا گیا تھا، کو منسوخ کر دیا گیا۔ درگاہ کی منتقلی روکنے کے مطالبہ کے ساتھ نجمہ نامی درخواست گزار کی جانب سے دائر
عرضی پر جسٹس بی وجے سین ریڈی نے پیر کے روز سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ معروف زیارتی مقام ویملواڑہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سہولتوں کی فراہمی کے تحت حکومت ترقیاتی کام انجام دے رہی ہے اور اسی سلسلہ میں بعض عبادت گاہوں کو بہتر سہولتوں والی متبادل جگہ مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ عوامی رائے کے مطابق کیا جا رہا ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت اگلے ماہ کی 16 تاریخ تک ملتوی کر دی۔