آبپاشی تو دور، پینے کے پانی کی فراہمی بھی چیلنج بننے کا اندیشہ، مختلف ذخائر کی سطح میں کمی
**حیدرآباد، 12 اکتوبر:** ایل نینو کے اثرات اور مانسون کے دوران معمول سے کم بارش کے باعث تلنگانہ میں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ریاست کے بڑے اور متوسط آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے سے نہ صرف زرعی آبپاشی بلکہ آنے والے مہینوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ریاست میں بارش کی کمی کے باعث کرشنا اور گوداوری دریاؤں سے منسلک آبی منصوبوں میں پانی کی آمد متاثر ہوئی ہے۔ سری سیلم، ناگرجنا ساگر، سنگور اور سری رام ساگر جیسے اہم ذخائر میں گزشتہ سال کے مقابلے پانی کی مقدار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ریاست کے کئی علاقوں میں زیرزمین پانی کی سطح بھی نیچے چلی گئی ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں اور دیہی علاقوں میں پانی کی دستیابی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ اگر آئندہ مہینوں میں خاطر خواہ بارش نہ ہوئی تو ربیع کی فصلوں کے لیے پانی کی فراہمی مشکل ہوسکتی ہے۔
تلنگانہ حکومت نے ممکنہ آبی بحران سے نمٹنے کے لیے احتیاطی اقدامات اور ہنگامی منصوبہ بندی کی ہدایت دی ہے۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے متعلقہ محکموں کو پینے کے پانی،
آبپاشی، زراعت اور برقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ آنے والے موسم گرما تک ضروری خدمات کو برقرار رکھا جاسکے۔
آبی ذخائر میں کمی کے باعث حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں بھی پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً سنگور اور ناگرجنا ساگر جیسے ذخائر کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ شہر اور اس کے گردونواح کی آبی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محکمہ آبپاشی کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج محدود دستیاب پانی کو زرعی اور گھریلو ضروریات کے درمیان مناسب انداز میں تقسیم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق پینے کے پانی کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔
ماہرین نے پانی کے محتاط استعمال، ذخائر کی مسلسل نگرانی، زیرزمین پانی کے تحفظ اور متبادل انتظامات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خشک موسم طویل ہوا تو کئی اضلاع میں پانی کی قلت مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
تاہم حکام کی جانب سے حیدرآباد میں پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند کرنے کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ نہ دیں اور پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔