دہلی 5 جنوری 2026 (اعتماد نیوز) سپریم کورٹ نے 2020 دہلی فسادات سے متعلق یو اے پی اے مقدمہ میں طالب علم قائدین شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد دونوں کے خلاف مجرمانہ سازش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاہم عدالت نے اسی مقدمہ میں نامزد پانچ دیگر ملزمان—گلفیشان فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد—کو ضمانت دے دی۔ ان تمام نے دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت سے انکار کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جسٹس اروِند کمار
کی قیادت والی بنچ نے واضح کیا کہ تمام ملزمان کے الزامات یکساں نہیں ہیں اور ضمانت کے معاملے میں ہر درخواست کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق شارجیل امام اور عمر خالد کا کردار دیگر ملزمان سے مختلف نوعیت کا ہے۔دہلی پولیس نے موقف اختیار کیا کہ یہ کارروائیاں اچانک احتجاج نہیں بلکہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی منظم سازش کا حصہ تھیں، جن کا مقصد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بھارت کے دوران عالمی توجہ حاصل کرنا اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔