سوشل میڈیا پر اکثر آپ نے ایک نوجوان لڑکے کی ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے اور دل کھول کر ہنتے ہوئے ویڈیو یا میم ضرور دیکھی ہوگی۔ اس ہنستے ہوئے وائرل بوائے کا نام ارون کمار ہے، جس کا تعلق ہندوستانی ریاست تلنگانہ سے ہے۔ لیکن لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر نے والی اس معصوم انسی کے پیچھے ایک انتہائی مشکل اور جذباتی کہانی چھپی ہوئی ہے، جو حال ہی میں دنیا کے سامنے آئی ہے۔
ارون کمار صرف 10 سال کا تھا جب انتہائی غربت اور مالی حالات کی وجہ سے اسے چوتھی کلاس میں ہی اسکول چھوڑنا پڑا۔ بچپن کے کھلونے اور کتابیں چھوٹ گئیں اور وہ پیٹ پالنے کے لئے ہائی ویز پر ٹرک صاف کرنے والے لاری کلینز کا کام کرنے لگا۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک ٹرک ڈرائیور سے ہوئی جس کا نام نہرو تھا۔ نہرو نے ارون کو اپنے ساتھ کام پر رکھ لیا۔ ایک دن جب دونوں ہائی وے پر چائے پینے کے لئے رکے، تو کسی بات پر ارون کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ نہرو نے اس کے اس خوبصورت اور بے فکری کے لمحہ کو اپنے موبائل کیمرہ میں قید کر کے انٹرنیٹ پر شیئر کر دیا۔ وہ معصومانہ نہی لوگوں کو اتنی پسند آئی کہ ارون راتوں رات ایک عالمی سوشل میڈیا سنسیشن بن
گیا اور ہر دوسرے مذاق یا ویڈیو میں اس کا چہرہ بطور میم استعمال ہونے لگا۔
اس کہانی کا سب سے خوبصورت موڑ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آیا۔ انٹرنیٹ پر لاکھوں لوگ ارون کی تعریفیں کر رہے تھے لیکن ارون پڑھنا لکھنا نہ جاننے کی وجہ سے اپنی ہی تعریف کے وہ الفاظ پڑھنے سے قاصر تھا۔ جب ٹرک ڈرائیور نہرو کو اس بات کا احساس ہوا، تو انہوں نے ارون کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کیا۔ نہرو ( جوخود فیملی کی ذمہ داریوں کی وجہ سے کالج کی پڑھائی ادھوری چھوڑ چکے تھے ) ارون کے صرف مالک نہیں بلکہ ایک بچے استاد اور رہنما بن گئے۔ انہوں نے اپنے پیسوں سے ارون کے لئے کتابیں خریدیں، امتحان کی فیس بھری اور اس کا فارم داخل کروایا۔ ٹرک کا کین ہی ارون کا کلاس روم بن گیا، جہاں سفر کے دوران نہر وا سے ریاضی اور حروف تہجی سکھاتے تھے۔ دونوں کی یہ کڑی محنت اور سچی لگن رنگ لائی۔ ارون کمار نے کٹھن حالات کے باوجود دسویں کلاس کے امتحانات دیے اور اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔
وہ لڑکا جو کبھی اسکول جانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا، آج نہ صرف دسویں پاس کر چکا ہے بلکہ ایک کامیاب کونٹینٹ کر یٹر کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔