حیدرآباد: قطب اللہ پور کے باچوپلی ڈبل بیڈ روم کالونی میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث مقامی عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ خاص طور پر عبادت گاہوں کی عدم موجودگی سے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے نماز کی ادائیگی کے لئے کوئی مسجد موجود نہیں ہے، جبکہ ہندو برادری کے لیے مندر اور عیسائی برادری کے لیے چرچ کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق دو برس سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے عبادت گاہوں کے قیام کے لیے کوئی معقول اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ متعلقہ عہدیداروں اور حکام سے نمائندگی کی گئی، لیکن اب تک نہ عبادت گاہوں کے لیے جگہ مختص کی گئی اور نہ ہی ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
اسی مسئلے کے پیش نظر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قطب اللہ پور صدر محمد منیرالدین، محمد اکبر خان اور سری سائی نگر کے صدر عبدالعتیق نے باچو پلی ڈبل بیڈ روم کے صدر محمد مجاہد کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مقامی عوام سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل اور مشکلات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کو فوری حل کیا جائے اور عبادت گاہوں کے لیے مناسب جگہ مختص کی جائے۔
اس کے علاوہ ڈبل بیڈ روم کالونی کے قریب ایک بڑا
ڈمپنگ یارڈ بھی موجود ہے، جہاں اطراف کے مختلف علاقوں کا کچرا لا کر پھینکا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض اوقات کچرا سڑکوں پر بھی ڈال دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے راہگیروں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سڑک پر پھیلے کچرے کے باعث کئی افراد حادثات کا شکار ہو چکے ہیں اور زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید برآں علاقے میں اسٹریٹ لائٹس کا بھی فقدان ہے، جس کی وجہ سے رات کے اوقات میں عوام کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عبادت گاہوں کی عدم موجودگی کے باعث لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے ایک کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران بھی مقامی مسلمان عبادات کی ادائیگی کے سلسلے میں شدید مشکلات سے دوچار رہے۔
مقامی عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد، مندر اور چرچ کے قیام کے لیے جگہ مختص کی جائے اور علاقے کے قریب موجود ڈمپنگ یارڈ کو فوری طور پر کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے، کیونکہ کچرے کے اس مرکز کی وجہ سے ماحول آلودہ ہو رہا ہے اور مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ عوام کے مطابق اس آلودگی سے معصوم بچے اور بزرگ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مقامی افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو راحت فراہم کی جا سکے۔