حیدرآباد کی تاریخی جھیلوں میں ایک اہم نام فاکس ساگر جھیل کا بھی ہے، جو کہ قطب اللہ پور حلقے میں واقع ہے، جسے جیڈی میٹلہ چروو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تقریباً 130 سال قبل، 1897 میں آصف جاہ ششم، نواب محبوب علی خان کے دورِ حکومت میں تعمیر کی گئی یہ جھیل کبھی سکندرآباد کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ فاکس ساگر جھیل نہ صرف تاریخی اعتبار سے اہم ہے بلکہ ایک وقت میں اس کا رقبہ تقریباً 290 ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق جھیل کا رقبہ اس سے بھی زیادہ، تقریباً 490 ایکڑ تک بتایا گیا ہے۔ یہ جھیل جیڈی میٹلہ کے قریب واقع ہے اور کبھی یہاں کا ماحول انتہائی خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ لوگ جھیل کے کنارے پکنک منانے، مچھلی پکڑنے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے آیا کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فاکس ساگر جھیل کی تعمیر عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے پہلے ہوئی تھی۔ ایک زمانے میں یہ جھیل دریائے موسیٰ کی ایک شاخ کے ذریعے حسین ساگر سے بھی منسلک تھی۔ جھیل کے کنارے آج بھی ایک قدیم پمپ ہاؤس کا ایک خوبصورت گنبد کی شکل میں پتھریلا ڈھانچہ موجود ہے، جو اس جھیل کی تاریخی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ فاکس ساگر جھیل کی صورتحال بدلتی گئی۔ غیر قانونی قبضوں اور آلودگی کے باعث جھیل کا اصل رقبہ کافی حد
تک کم ہوگیا۔ 2014 تک اس کا سطحی رقبہ گھٹ کر تقریباً 126 ایکڑ رہ گیا تھا۔ تلنگانہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے 2022 میں نیشنل گرین ٹریبونل کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جھیل کے اطراف 1,014 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ آج کبھی سکندرآباد کے لیے پانی کا اہم ذریعہ رہنے والی یہ تاریخی جھیل آلودگی اور تجاوزات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ تاہم سرکاری اداروں اور رضاکاروں کی جانب سے فاکس ساگر جھیل کی صفائی اور بحالی کے لیے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ فاکس ساگر صرف پانی کا ذخیرہ نہیں، بلکہ حیدرآباد کے ماضی کی ایک تاریخی نشانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تاریخی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھ پائیں گے؟ حکومتِ تلنگانہ کو چاہیے کہ حائیڈرا کے ذریعے فاکس ساگر جھیل کو آلودگی اور غیر قانونی تجاوزات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور اس کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے جھیل کی بحالی اور خوبصورتی پر خصوصی توجہ دے۔ اعتماد کی ٹیم کے دورۂ فاکس ساگر کے دوران جھیل کی حالت خستہ نظر آئی، جہاں جگہ جگہ گندگی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ جھیل کے قدیم پمپ ہاؤس سے متعلق تعمیر و بحالی کی تفصیلات پر مشتمل تختی بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام فوری اقدامات کرتے ہوئے جھیل کی صفائی، تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور مکمل بحالی کو یقینی بنائیں۔