حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے ریاست میں شدید خشک سالی کی صورتحال پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں زیرِ زمین پانی 20 میٹر تک پہنچ گیا ہے اور کسان فصلیں جلانے پر مجبور ہیں۔ جولائی میں بارش ایک فیصد، اگست میں 38 فیصد اور ستمبر میں 30 فیصد کم رہی۔
کویتا نے کہا کہ ریاست میں موجود ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ فصلوں کو نومبر تک بچانے کے لیے مسلسل بجلی ضروری ہے، لیکن کئی دیہات میں 6 سے 7 گھنٹے بھی بجلی نہیں مل رہی۔ انہوں نے حکومت سے کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنے اور خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کا فوری اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلانے، مرکز سے تلنگانہ سمیت جنوبی ریاستوں کی مدد کرنے اور اضافی بجلی
مفت فراہم کرنے کی وزیراعظم مودی سے اپیل کی۔ کویتا نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 60 فیصد کسان شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں اور پینے کے پانی کا بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
کویتا نے حکومت پر کرشنا کے پانی اور آبپاشی منصوبوں میں غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ذخائر ڈیڈ اسٹوریج کی سطح تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی ٹیمیں ہر گاؤں کا دورہ کرکے کسانوں اور عوامی مسائل حکومت تک پہنچائیں گی۔
انہوں نے اسپتالوں کی صورتحال، 317 جی او سے متاثرہ ملازمین اور اسکولوں کی بنیادی سہولیات کا بھی جائزہ لینے کا اعلان کیا۔ ایس آئی آر کے معاملے پر کویتا نے کہا کہ صرف سی ای سی کا استعفیٰ کافی نہیں، مستقل اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے ای وی ایم ختم کرکے بیالٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔