ذرائع:
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے ریاست میں بیاک ڈور طریقے سے بیاک لاگ بھرتیوں کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بے روزگاری بڑھ چکی ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ وہ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کے نوٹیفکیشن کی اجرائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیہات سے بڑی تعداد میں نوجوان حیدرآباد آکر تربیت حاصل کر رہے ہیں اور ہزاروں روپئے خرچ کر تے ہوئے سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لئے تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔
تلنگانہ کے قیام کی جدوجہد میں بھی نوجوانوں نے اس امید کے ساتھ بھرپور حصہ لیا تھا کہ انہیں روزگار ملے گا، مگر ریاست بننے کے بعد صرف محدود ملازمتیں دی گئیں۔
کویتا نے کہا کہ منظم طریقے سے امتحانات منعقد نہیں کروائے گئے بلکہ ایک ہی دن مختلف ملازمتوں کے امتحانات رکھ کر طلبہ کو مشکلات میں ڈالا گیا۔ اسی ناراضگی کے سبب نوجوانوں نے محسوس کیا کہ بی آر ایس حکومت کو ہٹانے سے ہی انصاف ملے گا، اس لئے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں نوجوان گاؤں گاؤں جا کر کانگریس کے حق میں ووٹ ڈلوائے۔ انہیں امید تھی کہ کانگریس کےاقتدار میں آنے کے بعد جاب کیلنڈر جاری ہوگا، مگر آج یہ بھی واضح نہیں کہ کس مہینے کونسی نوکری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں بھی بعض ریاستی سطح کے پوسٹوں پر امتحان کے بغیر تقررات عمل میں لائے گئے۔ ایک لاکھ پچاس ہزار تنخواہ والی ملازمتیں بعض افراد کو ملنے کی خبریں سامنے آئیں جن سے عوام کو شدید صدمہ پہنچا۔ نرمل میں ضلع سطح کی 44 پوسٹوں کو دس سے پندرہ لاکھ روپئے میں فروخت کئے جانے کی بات سامنے آئی۔ نوجوانوں کی جدوجہد کے بعد وہ بھرتیاں روکی
گئیں، مگر کنٹراکٹ پر شامل کئے گئے افراد کو اب تک انصاف نہیں ملا، کیونکہ اس وقت کے بی آر ایس قائدین اب کانگریس میں شامل ہو کر رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس سیاست کو غور سے دیکھنا ہوگا۔کویتا نے کہا کہ اب ایک بار پھر ٹرانسکو، جینکو، آبپاشی، ریونیو اور میونسپل محکمہ جات میں جونیئر اسسٹنٹ اور آفس سب آرڈینیٹ جیسے عہدوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی بیاک لاگ پوسٹیں ہیں جو پہلے پر نہیں کی گئیں۔ نوجوانوں کو خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح انہیں بھی فروخت کیا جا سکتا ہے۔ کچھ سیاسی رہنما اور بدعنوان افسران سفارشوں کے ذریعہ نوکریاں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نظام آباد، کاماریڈی، عادل آباد اور نرمل سمیت کئی اضلاع سے نوجوان آکر اپنی پریشانی بیان کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں پوسٹوں کی خرید و فروخت بعض جگہوں پر ثابت بھی ہوئی اور اب کانگریس حکومت میں بھی ویسی ہی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے حکومت فوری طور پر آنکھیں کھولے اور افسران کو سخت وارننگ دے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلکٹرس اپنے دائرہ اختیار میں ان ملازمتوں کو صرف میرٹ رکھنے والے امیدواروں کو ہی دیں۔
کویتا نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ پیسے دے کر نوکری حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر خدا کے فضل سے وہ اقتدار میں آئیں گی تو لینے اور دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کو موقع ملنا چاہئے اور جو نوجوان ایمانداری سے تیاری کر رہے ہیں، تلنگانہ جاگروتی ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دے اور تحقیقات شروع کرے۔