the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

کٹھوعہ/15نومبر(ایجنسی) وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی متاثرہ آٹھ سالہ کمسن بچی کے والد محمد یوسف پجوال نے اس کیس کی بدولت راتوں رات شہرت پانے والی خاتون وکیل دیپکا سنگھ راجاوت کو اس کیس سے فارغ کردیا ہے۔ فارغ کئے جانے کی وجہ Deepika Rajawat دیپکا راجاوت کی کیس میں مبینہ عدم دلچسپی بتائی جارہی ہے۔ محمد یوسف پجوال نے گذشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت جہاں کیس کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، میں ایک درخواست جمع کرائی جس میں دیپکا راجاوت سے پاور آف اٹارنی کے اختیارات واپس لینے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

عدالتی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے درخواست کو منظوری دی ہے اور دیپکا راجاوت جو شکایت کنندہ (محمد یوسف) کی طرف سے پرائیویٹ کونسل مقرر کی گئی تھیں، کو کیس سے الگ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ استغاثہ کی طرف سے کیس کی پیروی دو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرس سنتوک سنگھ بسرا اور جگ دیش کمار چوپڑا کر رہے ہیں جبکہ متعدد دیگر وکلاءبشمول کے کے پوری، ہربچھن سنگھ اور مبین فاروقی انہیں اسسٹ کررہے ہیں۔ دیپکا راجاوت کا کیس سے ہٹانے جانے پر کہنا ہے کہ ان کے لئے پٹھان کوٹ عدالت میں ہر روز حاضر ہونا مشکل تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیس کی باگ ڈور سینئر وکلاءکے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ تاہم دیپکا راجاوت کے برعکس ملزمان کے وکلاء بالخصوص اے کے ساونی عدالت میں مسلسل پیش ہورہے ہیں۔

دیپکا راجاوت کو اس کیس کی بدولت غیرمعمولی شہرت ملی ہے اور انہیں گذشتہ دس ماہ کے دوران متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں متعدد کانفرنسوں میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا۔ محمد یوسف پجوال نے ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں کہا ہے 'میں نے دیپکا سنگھ راجاوت کو اپنا وکیل مقرر کیا تھا اور انہیں کیس کے سلسلے میں پاور آف اٹارنی کے اختیارات دیے تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرس شری ایس ایس بسرا اور جگ دیشور کمار چوپڑا کیس کی پیروی کررہے ہیں اور انہیں شری کے کے پوری، شری ہربچھن سنگھ، مبین فاروقی اور دوسرے وکلاءاسسٹ کررہے ہیں۔ میں کیس کی پیش رفت سے مطمئن ہوں'۔ محمد یوسف کی درخواست کے مطابق دیپکا گذشتہ پانچ ماہ کے دوران صرف دو یا تین مرتبہ عدالت میں حاضر ہوئیں اور کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے 'سپریم کورٹ کے حکم پر پٹھان کوٹ عدالت میں کیس کی ٹرائل گذشتہ پانچ ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ دیپکا سنگھ راجاوت اس دوران صرف دو یا تین بار عدالت میں حاضر ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے'۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے 'ان کے (دیپکا کے) خدشے اور عدالت میں حاضر نہ ہونے کے پیش نظر میں دیپکا سنگھ کو دی گئی پاور آف اٹارنی واپس لیتا ہوں اور وہ اب میری وکیل نہیں ہوگی'۔ محمد یوسف نے پٹھان کوٹ عدالت کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کیس کی اب تک 110 سماعتیں ہوچکی ہیں اور دیپکا راجاوت محض دو مرتبہ عدالت میں حاضر رہیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون سی سیاسی جماعت تلنگانہ ریاست میں آئندہ حکومت بنائیں گے؟

ٹی آر ایس
کانگریس
بی جے پی
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.