غزہ 13 جون (ویب ڈیسک) قابض اسرائیل کی ظالم فوج نے ہفتہ کو غزہ پٹی میں اپنی زمینی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور جنگ بندی کے معاہدہ کے باوجود متعدد علاقوں میں دھماکوں، بمباری اور فائرنگ کی کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں المغازی کیمپ میں ایک فلسطینی شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق وسطی غزہ پٹی میں واقع المغازی کیمپ پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک شہری جام شہادت نوش کر گیا اور کئی دوسرے زخمی ہو گئے جبکہ اس کے ساتھ ہی غاصب دشمن کی طرف سے پٹی کے مشرقی حصوں میں توپ خانے سے گولہ باری اور رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ پٹی کے ہی البریج کیمپ میں ابو عاصی کے داخلی راستے کے قریب قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے کے حملے میں ایک اور شہری شہید ہوا اور متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
قابض اسرائیل کی جلاد افواج نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی مکانات اور عمارتوں کو بارود سے اڑانے کی
وسیع کارروائیاں کیں جس سے خوفناک دھماکے ہوئے جن کی لرزہ خیز آواز میں شہر کے دور دراز علاقوں میں سنی گئیں۔ پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سے مسلسل اندھا دھند فائرنگ کی گئی جبکہ اسی دوران شہر کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنا کر شدید توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔ خان یونس کی فضائیں قابض اسرائیل کے جاسوس ڈرون طیاروں کی نیچی پروازوں سے گونجتی رہیں جس سے علاقے میں شدید خوف اور تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ سرحد کے ساتھ واقع تمام علاقوں میں مسلسل جاری صیہونی جارحیت کے فریم ورک کے تحت قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے خان یونس کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف بھی شدید اور زبردست فائرنگ کی۔ قابض اسرائیل کی غاصب فوج قطاع غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور فلسطینی ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق اس معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک ان متواتر صیہونی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 981 سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور سینکڑوں شدید زخمی ہوئے ہیں۔