ذرائع:
مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدامی حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اپیل کی ابتدائی سماعت (ایڈمیشن مرحلہ) تک رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی سے روک دیا ہے۔ ضلع سرکاری وکیل دنیش چوہان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے وکیل نے درخواست دی تھی کہ ایک وکیل کے انتقال کے باعث 28 جولائی کو مقررہ سماعت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ خدشہ تھا کہ آر ڈی اے اس سے پہلے
کسی بھی وقت انہدامی کارروائی کر سکتی ہے، جس سے اپیل کا مقصد ہی ختم ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے نرم رویہ اختیار کیا اور اپیل کی ابتدائی سماعت تک انہدامی کارروائی پر روک لگا دی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ دنیش چوہان کے مطابق اپیل کی سماعت کے دوران یونیورسٹی، آر ڈی اے اور ریاستی حکومت کے تمام دلائل اور شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد عدالت اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔