چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ فیوچر سٹی صرف تلنگانہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثالی شہر ہوگی۔ فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا کہ آئندہ آٹھ برسوں میں اس شہر کو نیویارک، ٹوکیو اور سنگاپور کے طرز پر ترقی دی جائے گی اور 2034 تک اسے ٹریلین ڈالر معیشت کا اہم مرکز بنایا جائے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی عناصر اور بی آر ایس قائدین فیوچر سٹی منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت ترقیاتی منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد میں بارشوں کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کی بڑی وجہ تالابوں اور نالوں پر ناجائز قبضے ہیں۔
ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ حکومت "حیدرا" کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی اور آبی ذخائر کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی 60 فیصد آمدنی حیدرآباد سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے شہر کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق فیوچر سٹی میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تلنگانہ عالمی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔