صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین نے ایس آئی آر پر اعتراضات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن ووٹروں کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے والدین یا دادا دادی کے نام اس فہرست میں شامل ہیں، ان کے لیے درکار 12 دستاویزات کے معاملے پر پارٹی نے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔ بیرسٹر اویسی کے مطابق ان 12 دستاویزات میں شامل بعض دستاویزات تلنگانہ میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہے، مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کا نظام بھی موجود نہیں اور نہ ہی فیملی رجسٹر رکھا جاتا ہے، اس لیے یہ دستاویزات قابلِ عمل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف آدھار کارڈ کو بھی واحد ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث 12 میں سے کم از کم 4 دستاویزات پہلے ہی خارج ہو چکی ہیں۔بیرسٹر اویسی نے سوال کیا کہ ایسی صورتحال میں متاثرہ ووٹر اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے کون سے دستاویزات پیش کریں گے اور الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔