صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت مغربی بنگال کے آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور زیادہ سے زیادہ نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بنگال میں ہمایوں کبیر کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا جائے گا۔ دارالسلام میں منعقدہ عید ملاپ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں مجلس نے 5 تا 6 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا، جبکہ اس مرتبہ دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالدہ ضلع میں پنچایت انتخابات کے دوران مجلس کو تقریباً 60 ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے، جو پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے۔انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی فراہم نہیں کی گئی۔ بیرسٹر اویسی نے
حیدرآباد سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں تین کارپوریشنز قائم کئے گئے ہیں اور مجلس تینوں میں کامیابی حاصل کرے گی۔انہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپریل کے مہینے میں اس عمل کے آغاز کا امکان ہے، جس کے پیش نظر مجلس نے ایک موبائل ایپ تیار کی ہے تاکہ عوام کو مکمل رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ ملکی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے گیس کی ممکنہ قلت پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کمرشیل گیس کی دستیابی مشکل ہوسکتی ہے جبکہ ملک کے پاس صرف 9 سے 10 دن کا اسٹریٹجک ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں توانائی کی طلب 22 ملین بیرل ہے جو 2050 تک بڑھ کر 43 ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ بیرسٹر اویسی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے مسئلہ پر مضبوط موقف اختیار کرے اور فلسطینی عوام کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑی رہے۔