ذرائع:
برفانی براعظم انٹارکٹیکا کی سیکڑوں میٹر موٹی برف کے نیچے ایک حیرت انگیز آبی بستی چھپی ہوئی ہے۔ سائنس دانوں نے فلشنر آئس شیلف میں سوراخ کرکے ایک خودکار زیرِ آب روبوٹ برف کے نیچے تاریک سمندری پانی میں بھیجا، جہاں ایک ایسی نایاب آبی بستی دریافت ہوئی جس نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ یہ دراصل مچھلیوں کی افزائشِ نسل کی ایک بہت بڑی کالونی ہے، جو تقریباً امریکہ کے شہر اورلینڈو جتنے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کے
مطابق سمندر کی تہہ میں تقریباً 6 کروڑ گھونسلے موجود ہیں۔ ہر گھونسلہ انٹارکٹیکا آئس فش نے بڑی محنت سے بنایا ہے۔ اس مچھلی کا جسم شفاف ہوتا ہے اور اس کے خون میں ایسی خاص خصوصیات ہوتی ہیں جو شدید سردی میں بھی اسے جمنے نہیں دیتیں۔ لیکن یہ خوبصورت منظر صرف زندگی کی علامت نہیں، بلکہ بقا کی ایک سخت جنگ بھی ہے۔ افزائشِ نسل کے موسم میں ویڈل سیلز ان مچھلیوں کا شکار کرنے کے لیے یہاں پہنچ جاتے ہیں، جس سے یہ پُرسکون کالونی ایک خطرناک شکار گاہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔