مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حیدرآباد کا دورہ کیا، جہاں بیگم پیٹ ایئرپورٹ پر بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ایئرپورٹ سے روانگی کے بعد امیت شاہ نے تاریخی چارمینار کے قریب واقع بھاگیہ لکشمی مندر کا دورہ کیا اور وہاں خصوصی پوجا کی۔ اس کے بعد انہوں نے ہوٹل آئی ٹی سی کاکتیہ میں پارٹی کے مرکزی و ریاستی قائدین کے ساتھ ملاقات کی اور انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں امیت شاہ نے حیدرآباد کے بشیر باغ میں واقع بابو جگجیون رام کے مجسمے سے ایک عظیم الشان "جمہوریت بچاؤ" نامی پدیاترا کی قیادت کی، جس میں ہزاروں پارٹی کارکنوں اور عوام نے شرکت کی۔ یہ پیدل مارچ معظم جاہی مارکیٹ چوراہے پر اختتام پذیر ہوا، جہاں انہوں نےعوامی جلسے سے خطاب کیا۔ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کانگریس اور اپوزیشن اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ
بنایا۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے انتخابی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) پر اٹھائے گئے سوالات کا سخت جواب دیا۔ امت شاہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، "وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم صرف ایس آئی آر کی وجہ سے جیتے ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ کیا 2014 میں نریندر مودی کی جیت ایس آئی آر کی وجہ سے ہوئی تھی؟ کیا اس وقت ایس آئی آر کرایا گیا تھا؟ تو پھر مودی جی ایس آئی آر کی وجہ سے جیتے یا حیدرآباد اور ملک کے عوام کے ووٹوں سے؟ وہ 2019 میں بھی دوبارہ منتخب ہوئے۔ کیا اس وقت ایس آئی آر ہوا تھا؟ امیت شاہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں اپنی شکست کو چھپانے کے لیے ووٹر لسٹوں اور ای وی ایم پر بلاجواز سوالات اٹھا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور ترقیاتی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں بار بار بھاری اکثریت سے منتخب کیا ہے۔