آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں، مساجد و مدارس کے انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، وندے ماترم کو لازمی بنانے کی کوششوں، یونیفارم سول کوڈ اور کمال مولی مسجد معاملہ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد اہم فیصلے کئے ہیں۔بورڈ نے کہا کہ مسلمانوں کی جان و مال، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق خطرے میں ہیں اور نفرت و فرقہ واریت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ بورڈ نے سیکولر جماعتوں کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ وندے ماترم کو لازمی بنانے یا یو سی سی نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ کمال مولی مسجد معاملہ میں سپریم کورٹ میں جاری قانونی جدوجہد میں مسجد کمیٹی کی ہر ممکن مدد کا بھی فیصلہ کیا گیا۔بورڈ نے ملک بھر میں مسلمانوں کے حقوق، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دستور کے تحفظ کے لیے انصاف پسند اور جمہوریت پسند طبقات کے تعاون سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے
ہوئے اس مقصد کے لیے ایک مجلس عمل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس کی صدارت صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے انجام دیے۔ اجلاس میں ملک کے طول عرض سے ارکان عاملہ نے شرکت فرمائی، جن میں بطور خاص نائیبین صدور مولانا ارشد مدنی، صدر جمعیت علما ئے ھند، مولانا عبیداللہ خان اعظمی، سابق ممبر پارلیمنٹ، جناب سید سعادت اللہ حسینی، امیر جماعت اسلامی ھند، مولانا اصغرعلی امام مہدی، امیر مرکزی جمیعت اہل حدیث، سکریٹریز مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی، قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس،سینئر ایڈوکیٹس جناب یوسف حاتم مچھالا، جناب ایم آر شمشاد، ویمن ونگ کی کنوینر ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ، صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی، جناب عارف مسعود، مولانامحمد ابوطالب رحمانی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور مولانا خالد رشید فرنگی مجلی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔