بنگلورو۔ 30 / دسمبر ۔ (اعتماد نیوز ): حالیہ کرناٹک کے سرمائی اسمبلی اجلاس میں ہِیٹ اسپیچ بل کی منظوری کے پس منظر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اقلیتی بہبود، وقف اور ہاؤسنگ بی زیڈ ضمیر احمد خان کی جانب سے نقیبِ ملت بیرسٹر اسد الدین اویسی کا نام لے کر نفرت انگیز تقریر کی مثال پیش کیے جانے پر مجلس اتحاد المسلمین کے قائد محمد عاطف اشہر نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مجلسی قائد محمد عاطف اشہر نے اپنے سخت بیان میں کہا کہ ضمیر احمد خان سب سے پہلے وزارت کے اہل ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر اسد الدین اویسی کی مثال دینے سے قبل ضمیر احمد خان کو اپنے گریبان میں جھانک کر یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کرناٹک میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آج تک ریاست میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کی بحالی عمل میں نہیں آئی، مگر اس سنگین مسئلہ پر وزیر کی جانب سے کوئی ٹھوس آواز سنائی نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ منگلور، اُڈپی، کاروار اور دیگر ساحلی
اضلاع میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول بنایا گیا، مگر اس موقع پر بھی ضمیر احمد خان نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اقتدار اور کرسی کی خاطر مسلمانوں کی ترقی، فلاح و بہبود اور ان کے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کی جاتی، جو نہایت افسوسناک ہے۔ محمد عاطف اشہر نے کہا کہ اس کے برعکس بیرسٹر اسد الدین اویسی ملک بھر میں مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے بلا خوف و خطر اور بیباک انداز میں ایوانوں کے اندر اور باہر آواز بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلمانوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں آتا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی زیڈ ضمیر احمد خان فوری طور پر اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اقتدار و کرسی کی سیاست سے باہر نکل کر مسلمانوں کی حقیقی ترقی اور ان کے حقوق کی نمائندگی پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے اور خوشامدانہ سیاست چھوڑ کر اقلیتی طبقے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں، یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔