صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مہاراشٹر میں پیش کئے گئے نئے تبدیلیٔ مذہب مخالف بل کو آئینی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں ’’تعلیم کے ذریعے برین واشنگ‘‘ جیسے مبہم الفاظ شامل کئے گئے ہیں جن کے ذریعے کسی بھی شخص کو من مانے طریقے سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو
شکایت کے بغیر بھی تحقیقات شروع کرنے کا اختیار دینا بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ ہر شہری کو اپنے عقیدے کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایسا قانون اسی ریاست میں لایا جا رہا ہے جہاں بابا صاحب امبیڈکر نے لاکھوں افراد کے ساتھ بدھ مت اختیار کیا تھا، جبکہ آئین ہر شہری کو خیال، عقیدہ اور عبادت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔