the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

انگلش ویکلی

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے پڑوسی سے بات نہیں کریں گے۔

متفق
متفق نہیں
کہہ نہیں سکتے
(ایجنسیز)



فلسطین کی  63  سرکردہ سیاسی، سماجی اور مذہبی وملی تنظیموں نے اسرائیل کو سرزمین فلسطین میں ایک آئینی ریاست تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق کی حمایت کی ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ روز غزہ کی پٹی میں فلسطینی سماجی اور مذہبی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں قیام اسرائیل کی یاد اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی یاد میں رابطہ کمیٹیوں کا مل کر "یوم نکبہ" منانے کا بھی اعلان کیا۔ اس موقع پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ رواں سال "یوم نکبہ" کی تقریبات میں فلسطین کی سیاسی، سماجی، مذہبی، قومی، ملی تنظیمیں، پیشہ وارانہ انجمنیں، طلباء تنظیمیں اور دیگر این جی اوز مل کر "یوم نکبہ" منائیں گی۔ میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا کہ قابض صہیونی ریاست فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور اسے کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا عزم صمیم

فلسطینی رابطہ کمیٹیوں کی جانب سے جاری بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد، نسل پرست، غیرآئینی، مذہبی انتہا پسند اور ایک قبضہ گروپوں پر مشتمل ریاست ہے جو فلسطینیوں سے ان کا وطن طاقت کے ذریعے چھین کر بنائی گئی، جس کا اخلاقیات اور عالمی قوانین میں کوئی وجود اور جواز نہیں ہے۔  فلسطین کی



مقدس سرزمین یہودی ریاست کا قیام تاریخ انسانی کا سنگین جرم بالخصوص بیسویں صدی کا بدترین ظلم ہے۔ فلسطینی عوام چھ عشروں سے قابض صہیونی ریاست کے جبرو تشدد کے سائے تلے زندگی گذار رہے ہیں، وہ بے گھر ہو رہے ہیں، شہید ہوتے اور مسلسل خانما برباد ہیں لیکن انہوں نے آزادی کی تحریک سے ہاتھ نہیں کھینچے۔ فلسطین سے نکالے گئے ہزاروں عرب باشندوں کا اپنا اصلی وطن فلسطین ہی ہے، نہ وہ کسی دوسرے ملک کو اپنا وطن بنائیں گے اور نہ ہی اپنے حق واپسی پر کوئی سودے بازی قبول کریں گے۔

بیان میں فلسطین میں جاری مظالم کی تمام ذمہ داری عالم اسلام اور عرب ممالک پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلم اور عرب برادری نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنا فرض ادا نہیں کیا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی آزادی کی منزل دور ہوئی۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فلسطینی عوام اپنے جائز قومی مطالبات سے رو گردانی کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے باطل مطالبات کو تسلیم کریں۔ مسلح جدوجہد آزادی کے لیے جزو لازم ہے اور فلسطینیوں کو اس کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

خیال رہے کہ فلسطین میں مئی سنہ  1948 ء کو صہیونی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے سال فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور ان مظالم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ فلسطینی ہر سال قیام اسرائیل کے منحوس دن کو "یوم نکبہ" یعنی مصیبت کبریٰ کے طور پر مناتے ہیں۔
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
خصوصی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/
https://www.owaisihospital.com/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2023 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.