the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

انگلش ویکلی

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے پڑوسی سے بات نہیں کریں گے۔

متفق
متفق نہیں
کہہ نہیں سکتے



(بشکریہ دنیا میگزن )
ناجائز ہتھکنڈوں سے دولت،شہرت و عزت پانے کے خواہشمند دھوکے بازوں نے سوشل میڈیا کی مصومیت و ساکھ دائو پہ لگا دی…ایک چشم کشا تحقیقی رپورٹ

یہ جنوری 2013 کی بات ہے، بیکر (Baker) نامی امریکی گلوکار کا ویڈیو گانا ’’ناٹ گونا ویٹ‘‘ (Not Gonna Wait)یوٹیوب پر ریلیز ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسے لاکھوں لوگوں نے ‘‘لائک‘‘ (پسند) کرڈالا۔ گانے کی مقبولیت دیکھ کر موسیقی سے وابستہ امریکی میڈیا کے کان کھڑے ہوگئے۔ مشہور میوزک کمپنی، ایم ٹی وی کی ویب سائٹ پر ایک صحافی نے لکھا ’’ناٹ گونا ویٹ کو اب تک چالیس لاکھ مردو زن لائک کر چکے ۔ اگر پسندیدگی کی یہی رفتار رہی تو جلد گانا مشہور گانوں کی صف میں آ جائے گا۔‘‘ انگریزی گانوں کی کیسٹیں ریلیز کرنے والی ممتاز کمپنی، بل بورڈ کی ویب پیج پر یہ تبصرہ آیا :’’یہ ابھرتا گلوکار تیزی سے شائقینِ موسیقی میں مقبول ہو رہا ہے۔‘‘ لیکن جلد ہی اس مقبولیت کی قلعی اتری اوراندر سے ’’اصلیت‘‘ ظاہر ہوگئی۔ ماہ فروری میں نیویارک کے ویبسٹر ہال نامی مقام پر بیکر کا کنسرٹ منعقد ہوا۔ تب تک پچاس لاکھ لوگ یوٹیوب پر اس کے گانے کو لائک کر چکے تھے… مگر لاکھوں پرستار رکھنے والے اس گلوکار کے کنسرٹ میں صرف ’’30 لوگ‘‘ شریک ہوئے۔ ان کی موجودگی میں بھی ہال بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ حاضرین کی عدم توجہ سے بیکر مایوس و پریشان نہ ہوا، تاہم ماہرین موسیقی چوکنا ہوگئے۔ انہیں احساس ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ سوشل میڈیا کی روسے نیویارک میں بیکر کے ہزارہا پرستار (follower یا fan) موجود تھے۔ مگر صرف تیس افراد نے ویبسٹر ہال آنے کی زحمت کی حالانکہ ٹکٹ بھی محض دس ڈالر کا تھا۔ آخرایک تفتیشی صحافی کی تحقیق نے بیکر کی مقبولیت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ معلوم ہوا، موصوف نے رقم خرچ کرکے سوشل میڈیا پر لاکھوں لائکس /پرستارخریدے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی مقبولیت پا کردوسروں پہ اپنی دھاک بٹھا سکے۔ یہ انوکھا انکشاف ہوا تو بیکر کے گُن گانے والے ماہرین موسیقی سر پکڑ کربیٹھ گئے اور سوچنے لگے ’’اف! کیسا زمانہ آ گیا؟‘‘ ٭٭٭٭ دنیائے انٹرنیٹ پر پنپتے اور بے پناہ وسعت کے مالک سوشل میڈیا میں جنم لینے والا یہ محض ایک منفی واقعہ ہے۔ چونکہ یہ سوشل میڈیا دنیا بھر کے کم از کم ایک ارب مردو زن پر مشتمل ہے، لہٰذا وہاں شخصیات سے لے کر کمپنیوں حتیٰ کہ سرکاری اداروں تک کی تشہیر (ایڈورٹائزنگ) زوروں پر ہے۔کئی باتوں کی طرح یہ اشتہار بازی بھی منفی اور مثبت، دونوں پہلو رکھتی ہے۔ مثلاً امریکی صدر، کیلون کولج کا قول ہے: ’’صنعت و تجارت کی جان ایڈورٹائزنگ کے طوطے میں پوشیدہ ہے۔‘‘ جبکہ ممتاز امریکی ادیب ، ایچ جی ویلیز کا خیال ہے :’’اشتہار بازی جھوٹ کی قانونی شکل ہے‘‘۔ سوشل میڈیا کے بیشتر مردوزن فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور لنکڈیلن (LinkedIn)سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے کمپنیاں انہی کی ویب سائٹوں پر اشتہار دیتی ہیں تاکہ کروڑوں افراد تک پہنچ سکیں۔ پچھلے چند برس سے یہ نیا رجحان سامنے آچکا کہ جس کمپنی یا شخص کو سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں پر زیادہ لائکس/پرستار مل جائیں، اس کی شہرت و عزت بڑھ جاتی ہے۔ اسی رجحان کے بطن سے پیسہ کمانے کے ناجائز دھندے ’’کلک کاروبار‘‘(click farming) نے جنم لیا۔ کلک کاروبار کی بنیادیں شرانگیز انسانی جذبات، لالچ و ہوس میں پوشیدہ ہیں۔ دنیا میں ایسے کئی گلوکار، ادیب، سیاست داں،صحافی، اداکار و اداکارائیں وغیرہ موجود ہیں جو راتوں رات شہرت، دولت و عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی ضمن میں وہ ہر قسم کا جائز یا ناجائز قدم بھی اُٹھا لیتے ہیں۔ دوسری طرف ہر کمپنی کی تمنا ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا میں اس کے صفحات کو لاکھوں لوگ لائک کریں۔ کمپنی کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ لائکس کی تعداد کم ہوئی تو لوگ اُسے ناقابل اعتبار اور غیراہم سمجھ کراس کی سمت متوجہ نہیں ہوں گے۔ تیسری سمت بعض ممالک خصوصاً سپرپاور، امریکہ کے سرکاری اداروں کی یہ ’’ضرورت‘‘ ہوتی ہے کہ وہ عوام میں مقبول سمجھے جائیں۔ ان میں امور خارجہ اور دفاع کی امریکی وزارتیں سرفہرست ہیں۔ سو ان کی تمنا رہتی ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ان کے پیجوں کو لائک کریں۔ درج بالا افراد،کمپنیوں اور سرکاری اداروں کی’’ ضروریات ‘‘دیکھ کر ہی کلک کاروبار وجود میںآیا ۔یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ دھندا کس ’’زرخیز‘‘ذہن کی تخلیق ہے، تاہم امکان ہے کہ اسے کسی ایشیائی ملک کے باسی ہی نے شروع کیا۔ وجہ یہ کہ کاروبار سے وابستہ بیشتر کمپنیاں بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، سری لنکا، نیپال، انڈونیشیا، فلپائن اور مصر میں واقع ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب وغیرہ میں جعلی اکائونٹ بنانا ان کمپنیوں کابنیادی دھندا ہے۔ یہ کمپنیاں نہایت کم تنخواہ پر لڑکے لڑکیاں ملازم رکھتی ہیں۔ ان ملازمین کا کام یہ ہے کہ سارا وقت کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر جعلی اکائونٹ بنائیں، مطلوبہ ویب پیجوںپر لائک کریں یا ان کے فین بن جائیں۔جعلی اکائونٹ کھول کر یہ کمپنیاں پھر انہیں افراد، کمپنیوں یا اداروں کے ہاتھ فروخت کرتی ہیں۔ فی الوقت10 تا20 ڈالر میں کوئی بھی فرد فیس بک کی پانچ سو تا ایک ہزار لائکس/پرستار خرید سکتا ہے۔ 75 ڈالر میں دس ہزار لائکس دستیاب ہیں ،جبکہ کلک کاروبارسے وابستہ بعض بڑی کمپنیاں ’’دس لاکھ‘‘ تک جعلی لائکس/پرستار مہیا کرسکتی ہے۔ یہ کاروبار پھیلنے کی وجہ یہی ہے کہ شہرت و عزت کے طلب گار سیکڑوں مردوزن پیسا خرچنے کو تیار ہیں تاکہ لاکھوں لائکس/فین پا کر معاشرے میں اپنا مقام بلند کر سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس کلک کاروبار کی عالمی مالیت کم از کم ’’پچاس کروڑ ڈالر ‘‘(تقریباً 48 ارب روپے)سالانہ پہنچ چکی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے بھی اس ناجائز کاروبار کو وسعت دی۔ ماضی میں ایک جعلی اکائونٹ بناتے ہوئے تین چار منٹ لگتے تھے۔ اب ایسے سافٹ ویئر ایجاد ہو چکے جو تین چار منٹ میں ہزار ہا جعلی اکائونٹ بنا دیتے ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب وغیرہ کی انتظامیہ کوششیں کر رہی ہے کہ یہ جعلی اکائونٹس ختم کرسکیں، مگر تاحال انہیں خاص کامیابی نہیں ملی،کیونکہ انھیں بنانے والے نئے سافٹ وئیر بن جاتے ہیں۔تاہم بعض ماہرین کمپوٹر فیس بک انتظامیہ پہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ جعلی اکائونٹ ختم کرنے کی ٹھوس کوشش نہیں کر رہی۔وجہ یہ کہ یوزر(ارکان)کم ہونے سے اس کے بزنس پہ منفی اثر پڑے گا۔نیز وہ خود اپنی مصنوعات کی تشہیر میں جعلی لائکس/پرستاروں سے مدد لیتی ہے۔ ان جعلی اکائونٹس کا انتظام و انصرام حقیقی انسان ہی سنبھالتے ہیں،اسی باعث سوشل میڈیا کمپنیوں کے جدید سافٹ وئیر بھی انھیں دریافت نہیں کر پاتے۔جعلی اکائونٹ رکھنے والے خود کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر سیکڑوں پیجس لائک کرتے رہتے ہیں۔سو اس لیے بھی انھیں دنیائے نیٹ کی انتہائی وسیع دنیا میں کھوجنا کارے دارد بن جاتا ہے۔ اس وقت دنیائے ویب پر بے شمار کمپنیاں جعلی لائکس/پرستار فروخت کرنے کا دھندا کر رہی ہیں۔بس انھیں مطلوبہ فیس ڈالروں میں دیجیے،اگلے ایک دو ہفتوں میں آپ کا پیج ہزاروں بلکہ لاکھوں لائکس سے مزین ہو جائے گا۔نیز آپ کے ہزارہا پرستار بھی نمودار ہوں گے۔اسی کرشمے کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے اجنبی گھر بیٹھے ہی عالمی شہرت پا چکے…حالانکہ سچ یہ ہے کہ بہت سے اداکاروں،کھلاڑیوں،سیاست دانوں اور ادیبوں کے کئی پرستار جعلی ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپہ چند برس قبل بے انتہا مقبول ہونے والے نیٹ وڈیو گانے ’’وائے دس کولاویری دی‘‘(Why This Kolaveri Di) ہی کو لیجیے۔یہ گانا 16نومبر 2011ء کو یوٹیوب پہ جاری ہوا۔اس کا گلوکار ،دھنوش تامل فلموں کا غیر معروف اداکار تھا۔بھارتی ریاست،تامل ناڈو میں بھی اسے بہت کم لوگ جانتے تھے۔اس کے باوجود صرف ایک ہفتے کے اندر اندر گانے کو ’’35لاکھ ‘‘افراد نے دیکھ لیا۔نیز فیس بک پر ’’دس لاکھ‘‘دفعہ شئیر ہوا۔مذید براں ٹویٹر پر بھی لاکھوں مردوزن نے اس کا چرچا کیا۔ کلک کاروبار سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ شروع میں یہ گانا ایک لاکھ سے زائد جعلی



لائکس/پرستاروں کی بدولت ہی نمایاں ہوا۔جب حقیقی انسانوں نے یو ٹیوب،فیس بک اور ٹویٹر پہ اس کی بڑھتی مقبولیت دیکھی،تو مارے تجسّس کے گانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔یہ انسانی نفسیات ہے کہ انسان جہاں کہیں انسانوں کا جھمگٹا لگا دیکھے،تو اپنی فطری حس ِجستجو کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس سمت لپکتا ہے۔جعلی لائکس/ پرستاروں کا دھندا کرنے والوں نے اِسی بھیڑ چال والی انسانی فطرت سے فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو خوب پھیلا لیا۔ یہی معاملہ مشہور جنوبی کورین گانے’’گنگنم سٹائل‘‘(Gangnam Style)کے ساتھ پیش آیا۔یہ وڈیو گانا 15جولائی 2012ء کو یو ٹیوب میں جاری ہوا۔تب دھنوش کے مانند اس گانے کا گلوکار،پارک جے سانگ بھی غیر معروف جنوبی کورین فنکار تھا۔مگر اگلے تین دن میں دنیا بھر میں پھیلے ’’دس لاکھ‘‘ مردوزن نے اس کا گانا دیکھ لیا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں؟ یہ حقیقت آشکارا کرتی ہے کہ موصوف نے اپنا گانا یو ٹیوب چارٹ پہ اوپر لانے کی خاطر لاکھوں جعلی لائکس/پرستوروں کا سہارا لیا…اور کامیاب رہا۔آج گنگنم سٹائل یو ٹیوب پر سب سے زیادہ (1.942ارب بار)دیکھا جانے والا وڈیو گانا بن چکا۔ تازہ اعداد و شمار کی رو سے دنیا بھر میں ایک ارب اسیّ کروڑ مرد وزن فیس بک جبکہ چوبیس کروڑ لوگ ٹویٹر استعمال کر رہے ہیں۔ان دونوں ویب سائٹوں کی مالک ملٹی نیشنل کمپنیاں تسلیم کرتی ہیں کہ ان کے ہاں بڑی تعداد میں جعلی اکائونٹس موجود ہیں۔مشہور امریکی خبر رساں ادارے،اے پی کی ایک تحقیقی رپورٹ افشا کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کی بنیادیں رکھنے والے دونوں ادارے ’’دو کروڑ‘‘سے زائد جعلی اکائونٹس رکھتے ہیں۔یہ سچائی سوشل میڈیا کا بڑا عجیب تناقص افشا کرتی ہے۔ وہ یہ کہ فیس بک ،ٹویٹر وغیرہ کی بنیاد اسی لیے پڑی کہ دنیا بھر میں بکھرے لوگ باہم رابطہ کر سکیں۔وہ اپنی سنائیں اور دوسروں کی سنیں۔اور جو بھی زیادہ ذہین،باصلاحیت اور جوہر قابل ہو،کروڑوں لوگوں میں نمایاں ہو جائے۔لیکن لاکھوں جعلی اکائونٹس کی موجودگی سے ثابت ہے کہ ہم جن شخصیات،کمپنیوں اور اداروں کو سوشل میڈیا میں مشہور و عوام میں مقبول سمجھتے ہیںاور جو عموماً اسی وجہ سے طاقت و دولت بھی پاتے ہیں…ضروری نہیں کہ ان کی شہرت وعظمت حقیقی ہو،اس کا انحصار جعلی کلکوں پر بھی ہو سکتا ہے۔یوں لالچ و ہوس نے باہمی رابطے کی ویب سائٹوں کو داغدار کر ڈالا۔اسی باعث اب بہت سے مردوزن سوشل میڈیا ویب سائٹوں کو خبروں کا قابل اعتماد ذریعہ نہیں سمجھتے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ تمام عالمی شہرت یافتہ شخصیات جعلی کلکس/پرستار خریدنے کے غیر اخلاقی و قانونی کاروبار میں ملوث نہیں۔وجہ یہ کہ اکثر نامور مردوزن(Celebrities)ایڈورٹائزنگ سمیت دیگر معاملات دیکھنے کی خاطر مینجر بھرتی کرتے ہیں۔یہی مینجر جعلی کلکس/پرستار خریدتے ہیں تاکہ باس کو دکھا سکیں، وہ خوب محنت کر رہے ہیں۔یوں نامور شخصیت کھلاڑی ہو یا اداکار،اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے فیس بک پیج پہ لاکھوں پرستاروں کا حقیقی دنیا میں کوئی وجود نہیں۔ یاد رہے،فیس بک نے محدود پیمانے پر کمپنیوں اور افراد کو بہ عوض معین معاوضہ تشہیر کی اجازت دے رکھی ہے۔بیشتر کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیج ہزاروں لائکس تو پا لیتے ہیں،مگر کاروبار کو خاص بڑھاوا نہیں ملتا۔اس انہونی کی وجہ یہی ہے کہ اکثر لائکس جعلی ہوتے ہیں۔سو اب بہت سے ادارے فیس بک پہ اشتہار دینے سے کترانے لگے ہیں۔ان کے نزدیک یہ پیسے کا ضیاع ہے۔ بعض امریکی و یورپی کمپنیوں نے جعلی لائکس کا یہ توڑ نکالا کہ اب وہ صرف اپنے ممالک کے اکائونٹس ہی کو ٹارگٹ بناتی ہیں۔چناں چہ بنگلہ دیش،مصر،فلپائن،بھارت وغیرہ سے کوئی ان کے صفحے کو لائک کرے،تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔یوں کم سے کم جعلی لوگ ہی پیج کا حصہ بن پاتے ہیں۔اس حکمت عملی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کمپنی جان لیتی ہے،فیس بک پر اشتہار دینا مفید ثابت ہوا یا خسارے کا سودا؟ واضح رہے،ٹویٹ پہ جعلی اکائونٹس کی کھوج لگانے والے سافٹ وئیر ایجاد ہو چکے۔ا س سلسلے میں http://fakers.statuspeople.com/ اور www.socialbakers.com/twitter/fakefollowercheck/? کی ویب سائٹیں جعلی اکائونٹس کا پتا چلانے میں مددگار ہیں۔حتی کہ ٹویٹر کا اپنا پروگرام:www.twitteraudit.com/ بھی یہی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ ٹویٹر سے کہیں زیادہ وسائل رکھنے والی فیس بک جعلی اکائونٹس کاروک تھام کرنے والا کوئی سافٹ وئیر یا اندرونی میکنزم متعارف نہیں کروا سکی۔اس حقیقت سے ان افواہوں کو بڑھاوا ملتا ہے کہ انتظامیہ خود بووجوہ یہ خرابی دور نہیں کرنا چاہتی۔حالانکہ طویل المعیاد طور پہ یہ مسئلہ اسے نقصان ہی پہنچائے گا۔ کلک کاروبار کی مقبولیت و اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ اکلوتی سپر پاور کا طاقتور محکمہ خارجہ بھی اپنی زور آوری ثابت کرنے کی خاطر اس سے مدد لینے پر مجبور ہو گیا۔2011ء میں فیس بک پہ امریکی محکمہ خارجہ کا پیج صرف دس ہزار پرستار رکھتا تھا۔سوشل میڈیا میں اپنا قد و مرتبہ بلند کرنے کے لیے محکمے نے پھر زبردست تشہیری مہم چلائی اور اخبارات میں اشتہار دے کر اپنے پیجوں کو نمایاں کیا۔ امریکی محکمے نے اگلے دو برس میں اپنی تشہیری مہم پر چھ لاکھ تیس ہزار ڈالر(سوا چھ کروڑ روپے)خرچ کر ڈالے۔مگر اس رقم کا بڑا حصہ جعلی لائکس/پرستار خریدنے پر بھی صرف ہوا۔سو وسط 2013ء تک وزارت خارجہ کے فیس بک پیج پہ لائکس/پرستاروں کی تعداد ’’بیس لاکھ‘‘تک جا پہنچی۔ اسی سال ماہ جولائی میں امریکی حکومت کے انسپکٹر (آڈیٹر )جنرل نے اپنی رپورٹ میں وزارت خارجہ کی تشہیری مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔وجہ یہ کہ فیس بک پیج پہ صرف ’’2 فیصد‘‘پرستار فیڈ بیک دے رہے تھے۔گویا پیج کے بیشتر پرستار ایک دفہ کلک کرکے ’’غائب‘‘ہو گئے۔یہ جعلی لائکس کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔چناں چہ انسپکٹر جنرل کی جھڑکیاں سننے کے بعد محکمہ وزارت خارجہ نے تشہیری مہم ختم کر دی۔ اس ساری چشم کشا داستان کا نتیجہ یہ ہے کہ اب سوشل میڈیا پہ کوئی شخصیت ہو یا بزنس،لائکس/پرستاروں کی تعداد سے اس کی شہرت یا قابل اعتماد ہونے کا یقین کر لینا خود کو دھوکادینے کے مترادف ہے۔جعلی لائکس کا کرشمہ بھی اس ظاہری شہرت کا سبب ہو سکتا ہے۔ مثال کے طورپر ’’سوشل بیکرز‘‘ویب سائٹ (www.socialbakers.com)پہ دئیے گئے اعدادوشمار کی رو سے بہ لحاظ پرستاروں کی تعداد، فیس بک میں بھارت کی پہلی پانچ نامور ترین شخصیات یہ ہیں:اے آر رحمان،یو یو ہنی سنگھ ،شریا گھوسال،سچن ٹنڈولکر اور سونونگم۔ چلئیے اے آر رحمان اور سچن تو عالمی شہرت یافتہ ہستیاں ہیں،دونوں بالترتیب ایک کروڑ چوراسی لاکھ اور ایک کروڑ ساٹھ لاکھ فین یا پرستار رکھتے ہیں۔مگر یو یو سنگھ صاحب اور محترمہ شریا گھوسال کے بالترتیب ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اور ایک کروڑ سرسٹھ …اتنے زیادہ عالمی فین کہاں سے آ گئے؟یہ دونوں پاکستان میں بھی بالترتیب انیس لاکھ اور چودہ لاکھ پرستار رکھتے ہیں۔کیا یہ اعدادوشمار عیاں نہیں کرتے کہ سوشل میڈیا پہ ان کی زبردست مقبولیت میں جعلی کلکس کا بھی اہم کردار ہے؟ سوشل بیکرز ہی کی رو سے پاکستانی نامور شخصیات میں گلوکار عاطف اسلم فیس بک پہ سب سے زیادہ پرستار رکھتے ہیں۔ان میں سے چھبیس لاکھ پاکستانی ہیں۔جبکہ اناسٹھ (69)لاکھ فین بھارت،ساڑھے سات لاکھ بنگلہ دیش اور ایک لاکھ چوراسی ہزار نیپال میں بستے ہیں۔اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان سوا کروڑ پرستاروں میں حقیقی کتنے ہیں اور جعلی کتنے! یہ حقیقت ہے کہ اگر جعلی اکائونٹس کھولنے کا کاروبار یونہی پھلتا پھولتا رہا ،تو رفتہ رفتہ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس خصوصاً فیس بک،ٹویٹر،یو ٹیوب اور انسٹاگرام اپنی ساکھ و نیک نامی کھو بیٹھیں گی۔گو لوگ انھیں سماجی روابط کی خاطر استعمال کریں گے،مگر وہ کسی شخصیت یا مصنوعہ کہ مقبولیت و نیک نامی جاننے کا ذریعہ نہیں رہیں گی۔ابھی تو سوشل میڈیا میں کوئی مصنوعہ مشہور ہو جائے،تو ہزارہا لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔مگر وہ غیر معیاری نکلے،تو اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔یہ سوشل میڈیا کا ایک اور منفی پہلو ہے
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
خصوصی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/
https://www.owaisihospital.com/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2023 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.