the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اوپینین پول

کیا ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کے معاملات کو محدود کرنے کے لئے ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت ہے؟

ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے

احمدآباد: امریکا نے بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی  
 کے ایک دہائی تک جاری رہنے والے بائیکاٹ کا خاتمہ کر دیا ہے جہاں امریکی سفارت کار نے ہندوستانی وزارت عظمیٰ کے  امیدوار سے ملاقات کی۔

ہندوستان میں امریکی سفیر نینسی پاول نے مغربی ہندوستانی ریاست گجرات میں مودی کی سرکاری رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

پاول اور ان کے ساتھی ریاست کے دارالحکوت گاندھی نگر میں چار گاڑیوں میں آئے تاہم انہوں نے ملاقات کے لیے منتظر صحافیوں سے کوئی بات نہ کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے رہنما پر 2002 میں گجرات میں ہونے والے مذہبی فسادات کی سرپرستی کرنے کا الزام تھا جہاں ان فسادات کی آگ میں 2 ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

امریکا نے 2005 میں ڈومیسٹک قوانین کے تحت مودی کا ویزہ مسترد کر دیا تھا، یہ پابندی ان افراد کے خلاف لگائی جاتی ہے جو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائیں۔

مودی نے 2002 کے فسادات میں ملوث ہونے کے حوالے سےلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا تھا جہاں بعدازاں تحقیقات کے بعد انہیں الزامات سے بری کر دیا گیا تھا تاہم ان کے ایک سابق وزیر کو 97 مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔

پاول کی ملاقات کے ساتھ ہی امریکا یورپی دنیا اور آسٹریلیا کے ساتھ ان ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے پہلے ہی مودی سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔

عوامی رائے شماری سے اندازہ ہوتا ہے کہ مئی میں ہونے والے انتخابات میں مودی اور ان کی پارٹی حکمران جماعت کانگریس کو شکست دے کر باآسانی اقتدار سنبھال لے گی۔

کولڈ وار روس کے اتحادی ہونے کے باوجود ہندوستان کے امریکا سے تعکقات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے کیونکہ اکثر امریکی ارکان اسمبلی ایشیائی ملک سے دیرینہ تعلقات کے حامی تھے۔

تاہم مودی کو کانگریس میں موجود انسانی حقوق کے نمائندوں اور قدامت پسند سیاستدانوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کانگریس کے ایک آفیشل کے مطابق پاول کی مودی سے ملاقات امریکا کی جانب سے ویزہ کے معاملے پر کھلے دل کا مظاہرہ کرنے کا اشارہ ہے۔

تاہم کچھ حکام کا ماننا ہے کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کی صورت میں ماضی میں ان کا ویزہ مسترد کرنا دونوں ملکوں کے تعلقات کی راہ میں آڑے آ سکتا ہے۔
اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2020 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.