the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com




(ایجنسیز)
کریمیا میں اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں ووٹروں کی اکثریت نے اس جزیرہ نما علاقے کی یوکرین سے علاحدگی اور روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا نے ریفرینڈم کے غیر حتمی نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترانوے فی صد رائے دہندگان نے کریمیا کی روس میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔یوکرین کے اس خودمختار علاقے میں منعقدہ استصواب رائے کا یہ نتیجہ متوقع تھا۔البتہ اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کریمیا کے قریباً پندرہ لاکھ ووٹروں نے ریفرینڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور انھوں نے مستقبل میں معاشی ترقی کے امکانات کے پیش نظر یوکرین سے علاحدگی اور روسی وفاق میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

تاہم اس ریفرینڈم کے مخالفین نے اس کو روس کی جانب سے یوکرین کے جغرافیائی علاقے پر قبضے کی کوشش قراردیا ہے۔یوکرین کے صدر اولکسندر ترچینوف نے کریمیا کے عوام سے اس جعلی ریفرینڈم میں حصہ نہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس کے نتائج کریملن میں پہلے سے ہی مرتب کیے جا چکے ہیں۔اس کا مقصد سرکاری طور پر ہماری سرزمین پر روسی فوجیوں کو تعینات کرنا اور ایک ایسی جنگ کا آغاز ہے جس سے کریمیا کے عوام کی زندگیاں اور اس کی اقتصادی ترقی کے مواقع تباہ ہوکررہ جائیں گے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے آج سوموار سے کریمیا میں فوجی مداخلت پر روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔امریکا نے کریمیا میں ریفرینڈم کو غیر قانونی قراردیا ہے لیکن روسی صدر ولادی میر پوتین نے اس کو جائز اور قانونی قراردیا ہے۔

کریملن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے ولادی میر پوتین سے اتوار کو ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔روسی صدر نے ان سے کہا کہ ''ریفرینڈم اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی اقدار کے عین مطابق ہے''۔

بیان میں کریمیا کی صورت حال کا کوسوو سے موازنہ کیا گیا ہے۔کوسوو کی 2008ء میں سربیا سے علاحدگی کو دنیا کے ایک سو سے زیادہ ممالک تسلیم کرچکے ہیں اور ان میں امریکا سمیت سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ممالک بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا کی پارلیمان گذشتہ منگل کو اس عوامی ریفرینڈم سے قبل ہی ''اعلان آزادی''کی منظوری دے چکی ہے۔اس نے بھی اس ضمن میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور دوسری بین الاقوامی دستاویزات اور کوسوو کے اعلان آزادی کا بھی حوالہ دیا تھا جس کے بارے میں 22 جولائی 2010ء کو اقوام متحدہ کے تحت عالمی عدالت انصاف نے قراردیا تھا کہ کسی ملک کے ایک حصے کی جانب سے یک طرفہ طور پر اعلان آزادی بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

مگر مغربی ممالک پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کریمیا میں استصواب رائے کے انعقاد کو جائز تسلیم نہیں کریں گے۔ امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا تھا کہ کریمیا کی روس میں شمولیت کے لیے ریفرینڈم یوکرین کے آئین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔ یورپی اور امریکی لیڈر ماسکو پر مسلسل یہ زوردیتے چلے آرہے ہیں کہ وہ کریمیا سے اپنے فوجی دستوں کو واپس بلائے ورنہ اسے پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اوراسے عالمی سطح پر بھی سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کیا آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد' مرکز جموں وکشمیر میں امن لا سکتا ہے؟

ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2019 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.