آج کل مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام اور اسلامی احکام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ بعض اسلامی تعلیمات کو ان کے اصل پس منظر اور مقصد سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عوام خصوصاً نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
اسلام کے بعض احکام، خصوصاً جہاد اور جنگ سے متعلق تعلیمات کو غلط انداز میں پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام تشدد کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں جنگ کے بھی واضح اصول، حدود اور اخلاقی ضابطے مقرر کیے گئے ہیں۔ بے گناہوں، خواتین، بچوں اور ایسے افراد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں جو جنگ میں شریک نہ ہوں۔
مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قرآن مجید اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کو مکمل پس منظر کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ کسی ایک آیت یا واقعہ کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرنے سے اسلامی تعلیمات کی صحیح تصویر سامنے نہیں
آتی۔
تاریخ میں ہونے والی جنگوں اور موجودہ دور کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے اسلام امن، انصاف اور انسانی جان کے تحفظ کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور جنگ کو بلاوجہ اختیار کرنے کی ترغیب نہیں دیتا۔
مسلمانوں، بالخصوص علماء، دانشوروں اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا علمی اور مدلل جواب دیں۔ نوجوان نسل کو قرآن، حدیث اور اسلامی تاریخ سے صحیح طور پر واقف کرایا جائے تاکہ وہ غلط معلومات اور پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔
اسلامی احکام کے دفاع کیلئے محض وقتی ردعمل کافی نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، تحریر، تقریر اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے اسلام کا صحیح پیغام مؤثر اور پُرامن انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
مولانا مفتی محمد افراح قادری