the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

ویب ڈسک/10اکتوبر:کسی زمانے میں عوام کے درمیان جونکیں لگوانے والے عام پھرا کرتے تھے۔ جسم کے کسی بھی حصّے سے فاسد خون یا پھوڑے پھنسیوں اور زخموں سے غلیظ مواد نکالنا ہوتا‘ تو جونکوں سے بھرپور استفادہ کیا جاتا۔لیکن آج کے دورمیں ہمیں اسکا نام بھی نہیں معلوم اور ہم اسے خون چھوسنے والا گندہ کیڑ اسمجھ کر مار ڈالتے ہیں۔لیکن جب ہم اس کے بارے میں تفصیل سے جانیں گے تو حیرت میں پڑ جائیں گے۔تو آئے اس کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔
علق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جونک کے آتے ہیں۔ علق۔علقہ کی جمع ہے۔جونک پانی کا مشہور کیڑا ہے۔جو خون چوساکرتا ہے۔جونک لگاناان مقامات پر خاص اہمیت رکھتا ہے جن کا تقیہ فصد وحجامت سے نہیں کیاجاسکتا ہے۔جونکیں لگانا استفراغ کی ایک قسم ہے۔
جونک لگانے کے بارے میں لیونیا ہولسٹک ڈیسٹینیشن کے یونانی کنسلٹنٹ ڈاکٹر عرفان بن مصطفی بتاتے ہیں کہ جونک لگانا طبی اعتبار سے مریض کے لیے کافی اچھا ہے اور ایک قدیم طریقہ عمل ہے جو نہایت مفید ہے۔لیکن جس طرح سے یہ طریقہ قدیم زمانے میں عام تھا اور اب کے زمانے میں یہ کتابوں میں پڑھنے کو مل رہا ہے۔جونک کے بارے میں انہوں نے مزیدبتاتے ہوئے کہا کہ قدیم جرمن زبان میں لفظ ’لاہی‘ (Lahhi) (جس سے کہ جرمن میں جونک کا لفظ نکلا) کے معنی ہیں ’فزیشن‘۔ طبی جونک کے تین جبڑے آری جیسے ہوتے ہیں۔ ان پر نصب تقریباً ایک سو دانت ’میزبان‘ کے جسم میں سوراخ کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کئی ممالک میں طبی جونک کو پالا جاتا ہے تاکہ اس سے علاج میں استفادہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر عرفان کے مطابق جسم سے فاسد خون اور مواد نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی ’طبی جونک‘ کا اصطلاحی نام ’’ہیروڈا میڈیسنلیس‘‘ (medicinalis Hiruda ) ہے۔ اس کے سہ طرفہ جبڑے میں چھوٹے چھوٹے کئی تیز دانت ہوتے ہیں۔ وہ جلد میں انھیں گاڑ کر خون چوستی ہے۔
جونک (Leech)کیچوے کی قریبی رشتے دار ہے۔کیچوے کی طرح جونک کا جسم بھی چھلوں یا حلقوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جونک کی کئی اقسام ہیں۔ جونکیں تازہ پانی‘ سمندر اور زمین پہ پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر کا جسم چپٹا ہوتا ہے اور وہ سیاہ‘ سبز یا گندمی رنگ کی ہوتی ہیں۔
جونکیں ایک انچ (2.54 سینٹی میٹر) سے لے کر پینتیس انچ (88.9 سینٹی میٹر) تک لمبی ہوتی ہیں۔ ان کی پانچ سے آٹھ تک آنکھیں سر کے پچھلے حصے پر واقع ہیں۔آبی کے مقابلے میں زمینی جونکیں زیادہ موذی (Pest) اور اپنے شکار سے اتنی شدت کے ساتھ چمٹتی ہیں کہ آسانی سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ تاہم جونک جسم سے چمٹ جائے اور خون چوسے‘ تو شکار کو بالکل تکلیف نہیں ہوتی بلکہ اکثر پتا ہی نہیں چلتا کہ کوئی اس کا خون پی رہا ہے۔
قدرت نے خون چوسنے والے جونکوں کے اگلے چھ حلقوں میں چوسنے والے اعضا (Sucker)لگا رکھے ہیں۔ ان کی مدد سے وہ کسی جانور (یا انسان) سے چمٹ کر ان کاخون پیتی ہیں۔ وہ اس دوران لعاب چھوڑنے اور چوسنے کے عوامل سے مدد لیتی ہیں جو چھ حلقوں میں اعصاب کی حرکات سے جنم لیتے ہیں۔جونکوں کی بعض اقسام اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتی‘ غذا دیتی‘ ان کی حفاظت کرتی اور انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔
بعض جونکیں صرف پانی ہی میں پلتی بڑھتی اور زندہ رہتی ہیں۔بحر منجمد شمالی اور انٹارکٹک میں بھی جونکیں پائی جاتی ہیں۔ یہ مچھلیوں سے چمٹ کر ان کا خون چوستی ہیں۔ دیگر تازہ پانی کی جھیلوں اور چشموں میں ملتی ہیں۔ان میں بعض اقسام صرف خشکی پر پائی جاتی ہیں۔
جونک کے استعمال کا طریقہ:۔
جونکوں کو استعمال سے پہلے شکم کی صفائی اچھی طرح کریں،بھوکا رکھے تاکہ وہ اچھے سے چپک جائے اور جسم پر لگانے سے پہلے کسی جانور کا خون چکھا دیا جائے تاکہ انکی بھوک مزید بڑھ جائے۔اسکے بعد جونک کو پاک و صاف کرکے جسم پرلگائے۔
جونک جوں جوں خون پیتی جائے‘ اس کا بدن پھولتا جاتا ہے۔ جب وہ سیر ہو جائے‘ تو جلد سے علیحدہ ہو کر گر جاتی ہے۔ قدرت نے جونک میں پوٹا (crop) بھی رکھا ہے جس میں وہ چوسا ہوا خون محفوظ کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جونک اپنے جسم کی جسامت سے پانچ گنا زیادہ خون پوٹے میں ذخیرہ کر سکتی ہے۔ جونک اگر سیر ہو کر پی لے‘ تو چھ ماہ بعد اسے دوبارہ غذا کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ 
اگر جونک کاٹ لے‘ تو اس حصہ بدن کو پہلے جراثیم کش دوا سے صاف کیجیے۔ جلد سے جونک ہٹانے کے لیے اس پر نمک چھڑک دیں‘کیچوے کی طرح نمک اسے بھی گھلا دیتا ہے۔ آگ سے بھی یہ دور بھاگتی ہے۔ پانی میں چوناملا کر ڈالنے سے بھی وہ پیچھا چھوڑ دیتی ہے۔ جونک کے ڈالے ہوئے زخم کو ناخنوں سے نہ کھرچیے ورنہ وہ بگڑ کر دوسرے امراض پیدا کرنے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
جونک لگانے کے فوائد:۔
جونکوں کا رواج اطباء ہند میں بکثرت ملتا ہے۔لیکن یونانی اطباء میں شیخ الرئیس وگیلانی روفس نے جونکوں کا استعمال امراض جلد میں بکثرت کیا ہے اور اس میں ان کا نفع بخش ہونا بھی بتایا ہے۔مثلاً سعفہ گنج سر،قوبا،کلف نمش،پرانے قروح وسرطان میں جونکوں کا استعمال بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔جونکیں دیرینہ متعفن زخموں پر لگائی جاتی ہے۔زہریلے جانوروں کے ڈسے ہوئے مقام پر لگائی جاتی ہے۔جونک لگانے کے بعد اس جگہ سے خون کو بہنے دینا چاہئے۔
کس مواقع پر استعمال کریں:۔
مزمن جلدی بیماریاں،جرب،لمفادی غدد،چنبل،نارفارسی،مزمن قروح اور بواسیر۔

اس پوسٹ کے لئے 1 تبصرہ ہے
Irfan Says:
Bahuth hi malomati mazmoon hai aur jonk lagane ke itne fayde aur modern science ne bhi prove Kardiye hai ke jonk ke moon se jo saliva nikalta hai wo Kai tibbi faydo ka hamil hai .

Comment posted on October 11 2018
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کیا KCR لوک سبھا انتخابات سے قبل علاقائی پارٹیوں کو متحد کرکے ایک غیر کانگریسی، غیر بی جے پی محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائے گے؟

ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2019 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.