the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

حیدرآباد، 15 فروری (پریس نوٹ) اردو زبان سے وابستگی پر اردو یونیورسٹی کے طلبہ کوفخر کرنا چاہیے کہ وہ ایک مکمل ہندوستانی زبان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اردو صحافت بھی مین اسٹریم صحافت ہے۔ کیونکہ صحافت وہی ہوتی ہے جو عوام سے جڑی ہوتی ہے اور اردو صحافت پوری طرح سے عوامی صحافت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج شعبہ ¿ ترسیل عامہ و صحافت ، اردو ویونیورسٹی کے زیر اہتمام دوروزہ کانفرنس و المنائی میٹ کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی کلمات ادا کر رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اردو میڈیم کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اردو کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں اور اردو صحافت کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے والی صحافت کی مثال پیش کریں۔ قبل ازیں کانفرنس کے آغا میں ڈین و صدر شعبہ ¿ ترسیل عامہ و صحافت پروفیسر احتشام احمد خان نے کانفرنس المنائی کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ شعبہ اپنے طلبائے قدیم کو اپنا اثاثہ سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر کام رکتے ہوئے یقین رکھتا ہے۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی و نوجوان صحافی سنکیت اپادھیائے، منیجنگ ایڈیٹر، انڈیا اہیڈ ٹی وی نیوز نے طلبائے صحافت پر زور دیا کہ وہ مسائل کی نشاندہی والی صحافت ترک کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے والی صحافت کریں اور اپنے اندر سوالات کرنے کی عادت کو ابھاریں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات صرف تعلیم دیتی ہیں۔ طلبہ کو اس تعلیم کے ساتھ اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے طور پر بھی محنت کرنی چاہیے اور ہمیشہ مثبت تبدیلیوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ سنکیت اُپادھیائے نے کہا کہ طلبہ کو سفارشی ذہن اور سونچ ترک کر کے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مارکٹ میں نوکری اسی کو ملتی ہے جس کے اندر صلاحیت ہو اور پھر باصلاحیت نوجوانوں کے لیے کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔
اخبار دی ہندو کے اسوسی ایٹ ایڈیٹر جناب ضیاءالسلام نے اس کانفرنس میں بحیثیت مہمان اعزازی شرکت کی۔ کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی اردو ذریعہ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایک نعمت ہے۔ کیونکہ لوگ اردو کو صرف شعر و شاعری اور مسلمانوں کی زبان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جبکہ اردو زبان مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان ہے اور آج بھی میڈیا میں اردو زبان سے واقف حضرات کی مانگ ہے۔ ضیاءالسلام کے مطابق اردو طلبہ جتنی زیادہ زبانوں سے واقف ہوں گے ان کی طاقت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا کیونکہ آج روزگار کی مارکٹ میں وہی طلبہ ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں جو بہت ساری خوبیوں کے مالک اور ایک سے زائد زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کے مختلف اداروں میں اردو کا استعمال تو ہو رہا ہے مگر تلفظ کی ادائیگی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اردو یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے شاندار مواقع ہیں۔
ایم سی جے طلبہ کا لیب جرنل اظہار جو تین زبانوں پر مشتمل ہے کا اجرا عمل میں آیا۔ جناب ضیاءالسلام نے اپنی نئی کتاب ”لِنچ فائلس- دی فارگاٹن ساگا آف وکٹمس آف ہیٹ کرائم“ ڈاکٹر اسلم پرویز اور سنکیت اپادھیائے کو پیش کی۔ اس موقع پر کل جموں و کشمیر میں ہوئے سی آر پی ایف جوانوں کی ہلاکت پر بطور سوگ و خراج دو منٹ خاموشی منائی گئی۔ ڈاکٹر محمد فریاد، اسوسیئٹ پروفیسر نے کارروائی چلائی۔ جناب عامر بدر، پروڈیوسر آئی ایم سی اور شعبہ جرنلزم کے سابق طالب علم نے شکریہ ادا کیا۔ طالب علم عقیل احمد کی قرا ¿ت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ 

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا آئی پی ایل 2019 ٹرافی

سن رائسيس حیدرآباد
چنائی سپر کنگز
کولکاتا نائٹ رائڈرس
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2019 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.