the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

چانسلر مانو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کا صدر جمہوریہ کو مکتوب

حیدرآباد، 4 نومبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے صدر جمہوریہ  ہند سے جو یونیورسٹی کے وزیٹر بھی ہیں، شکایت کی ہے کہ مانو کے چانسلر جناب فیروز بخت احمد نے شخصی وجوہات کی بناءپر ان کے استعفیٰ کے حوالے سے وزارت فروغ انسانی وسائل کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے میڈیا کو دھوکہ دیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے آج صدر جمہوریہ کو تحریر کردہ ایک مکتوب میں کہا ہے کہ انہوں نے شخصی وجوہات کی بناءپر وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے تاکہ اپنے اصل ادارے کو لوٹ سکیں۔ تاہم آج انہیں مقامی صحافیوں کے کال وصول ہوئے جو دریافت کر رہے تھے کہ کیا انہیں وزارت فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) نے مستعفی ہوجانے یا تحقیقات کا سامنا کرنے کو تو نہیں کہا ہے؟ ان صحافیوں کو چانسلر جناب فیروز بخت احمد نے ای میل بھیجتے ہوئے اس طرح کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے مکتوب کے ساتھ میل کی نقل منسلک کی ہے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے صدر جمہوریہ کو یاد دہانی کی کہ چانسلر، ماضی میں بھی نہ صرف انہیں بدنام، بلکہ یونیورسٹی کے امیج کو داغدار بنانے اور ادارے کے تعلق سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ انہوں نے مسلسل پریس نوٹ کی اجرائی، پریس کانفرنس کے انعقاد اور سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپنگس کا سہارا لیتے ہوئے یہ حرکتیں کی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پرفارمنس آڈٹ کے بشمول جس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جاچکی ہے کسی بھی آڈٹ نے ڈاکٹر اسلم پرویز کی میعاد کے دوران یونیورسٹی میں کسی مالی یا اور طرح کی کسی بے قاعدگی کی شکایت نہیں کی ہے۔

تمام تقررات اور پروموشنس قواعد کے مطابق اور وزیٹر کے نمائندے کی موجودگی میں ہوئے ہیں۔ وزارت ایچ آر ڈی کی تشکیل کردہ حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی نے بھی جو چانسلر اور وائس چانسلر کے الزامات و جوابی الزامات کا جائزہ لینے کے لیے رواں سال فروری میں قائم کی گئی تھی، 17 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں وائس چانسلر کے خلاف کوئی سفارش نہیں کی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی نقل بھی صدر جمہوریہ کو بھیج دی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے صدر جمہوریہ کو تحریر کردہ مکتوب میں اس امر پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ تمام رپورٹس میں ان کے موقف کی تصدیق کے باوجود برسر عام بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے لیے چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چانسلر نے نام نہاد بے قاعدگیوں کی عزت مآب وزیٹر یا ایچ آر ڈی سے شکایت کرنے کے بجائے برسر عام تشہیر کا ڈھونگ رچایا۔ کسی مرکزی جامعہ کے چانسلر کے باوقار عہدہ پر فائز شخصیت کے لیے یہ انداز نہایت نازیبا ہے۔ موجودہ معاملے میں تو موصوف نے تمام حدوں کو پھلانگ کر ڈاکٹر اسلم پرویز کو رسوا کرنے کے لیے وزارت ایچ آر ڈی کے نام کا گمراہ کن استعمال کیا ہے۔ چانسلر کا یہ رویہ مسلسل اذیت اور ہراسانی کا باعث ہے جس پر آپ اور وزارت ایچ آر ڈی فوری توجہ دیں۔ چانسلر نے وائس چانسلر کے تعلق رائے عامہ کو مسخ کرنے کے لیے وزارت کے نام کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سرکاری عہدہ کا بھی بیجا استعمال کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے مکتوب کے آخر میں اس یقین کا اظہار کیا کہ صدر جمہوریہ کے جلیل و قدر عہدہ اور وزارت سے انہیں انصاف ملے گا، جو اپنے گھٹیا مفاد کی خاطر اعلیٰ عہدوں اور وزارت تک کو رسوا کرنے سے گریز نہ کرنے والوں کے لیے ایک انتباہ ہوگا۔
ای میل سے روانہ کردہ منسلکات:
(1) صدرِ جمہوریہ ¿ ہند کے نام ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کا مکتوب کی نقل
(2) حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی ، وزارت فروغ انسانی وسائل کی رپورٹ کی نقل
(3) میڈیا کو ای میل کے ذریعہ روانہ کردہ چانسلر کا پریس نوٹ

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
تعلیم و ملازمتیں میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

تلنگانہ کے سی ایم کے سی آر نے 2 دسمبر 2019 سے آر ٹی سی بس کے کرایوں میں 20 پیسے فی کلومیٹر اضافہ کیا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟

ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے
https://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2019 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.