ذرائع:
حیدرآباد کے ملکاجگیری علاقہ میں واقع سرکاری جونیئر کالج میں پیش آئے افسوسناک واقعہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انٹرمیڈیٹ کی طالبہ ورشینی معمولی تاخیر سے کالج پہنچی، جس پر لیکچررز شری لکشمی اور مدھو رِماں نے اسے طالبات کے سامنے کھڑا کر کے غیر اخلاقی اور توہین آمیز سوالات کے ذریعے شدید ذہنی اذیت دی۔سرِعام تذلیل سے دلبرداشتہ
ورشینی گہرے ڈپریشن میں چلی گئی۔ گھر پہنچنے کے بعد اس کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ والدین اسے فوری طور پر اسپتال لے گئے، تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔طالبہ کی موت کو لیکچررز کی ذہنی ہراسانی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اہلِ خانہ اور طلبہ تنظیموں نے کالج کے سامنے احتجاج کیا اور ذمہ دار اساتذہ کی گرفتاری و برطرفی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔