عادل آباد کی خاتون کے قتل کا راز ڈیڑھ ماہ بعد فاش، نعش مہاراشٹر میں دفن، پولیس کارروائی پر سوالات
عادل آباد کے پِٹل واڑہ علاقہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کے قتل کا معاملہ ڈیڑھ ماہ بعد منظرِ عام پر آیا، جس سے ضلع بھر میں سنسنی پھیل گئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل مقتولہ کو پِٹل واڑہ میں واقع اس کے مکان میں ہی قتل کر کے نعش کو مہاراشٹر کے کنوٹ تعلقہ کے سارکھنی کے قریب جنگلاتی علاقے میں دفن کر دیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق پِٹل واڑہ میں تنہا مقیم 38 سالہ عمرانہ جبین نے اندراویلی سے تعلق رکھنے والے اپنے جان پہچان کے شخص فاروق خان کو تقریباً 5 لاکھ روپے نقد اور زیورات گروی رکھ کر مزید چار لاکھ روپے تک قرض دیا تھا۔ رقم کی واپسی کے لئے جب مقتولہ نے فاروق خان پر دباؤ ڈالا تو اس نے انکار کر دیا۔اسی دوران مقتولہ کے ماموں کے بیٹے محمد طاہر نے اس کے پاس مقتولہ کی ذاتی تصاویر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی بہن کو بلیک میل کیا۔ جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو گئی۔ 25 نومبر 2025 کے بعد سے وہ لاپتہ ہوگئی، جس پر اس کی بہن کی شکایت پر ماوالا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کا ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ لیکن اس سنگین معاملے میں پولیس کی جانب سے بروقت اور
مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ پھر اس ماہ 11 تاریخ کو درج کرائی گئی اپنی دوسری شکایت میں مقتولہ کی بہن سمینہ یاسمین نے فاروق خان اور محمد طاہر دونوں پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے ماوالا پولیس اسٹیشن میں ایک اور مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔ ماوالا پولیس نے کارروائی کے دوران دونوں ملزمان فاروق خان اور محمد طاہر کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کی، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ مقتولہ کو پِٹل واڑہ میں قتل کرنے کے بعد نعش کو کار میں مہاراشٹر کے کنوٹ کے قریب جنگلاتی علاقے میں لے جا کر دفن کر دیا گیا تھا۔ماوالا سی آئی کررا سوامی، ایس آئی مدھو کرشنا اور تلمڈگو تحصیلدار راج موہن کی موجودگی میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے نعش کا پوسٹ مارٹم انجام دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔اس واقعہ میں ڈیڑھ ماہ تک پولیس کی جانب سے مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ایک طرف تلنگانہ پولیس اپنی بروقت کارروائی اور مؤثر اقدامات کے لیے جانی جاتی ہے، جہاں معمولی نوعیت کی شکایات مثلاً موبائل فون کی گمشدگی پر بھی فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، وہیں ایک خاتون کی گمشدگی اور بعد ازاں قتل کے معاملے میں ڈیڑھ ماہ تک کوئی ٹھوس سراغ نہ ملنا عادل آباد پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔