پٹنہ۔ 7 جون ( ویب ڈیسک) ریاست بہار میں گزشتہ 25 فروری کو ماہ رمضان کے دوران ضلع مدھوبنی کی روزہ دار روشن خاتون جنہیں بیدردی سے زدوکوب کیا گیا تھا، اس زدکوب سے وہ یکم
مارچ کو جانبر نہ ہوسکیں تھیں ۔ روشن خاتون ایک تنازعہ حل کرنے گاؤں کے سربراہ منگون سنگھ کے گھر گئی تھی، جہاں اسے کھمبے سے باندھ کر لاٹھیوں سے مارا گیا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ روشن خاتون کو حالت روزہ میں شراب اور پیشاب کی آمیزش پینے پر مجبور کیا گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسے اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھی اور یہ اسے ذلیل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ زخمی حالت میں ہسپتال لے جانے کے
بجاءے اسے تھانے لے جایا گیا، جہاں 50,000 روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس کیس میں 19 افراد کوملزم نامزد کیا گیا لیکن صرف ایک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی اور وہ بھی اندرون ایک ہفتہ رہا ہو گیا۔ اہل خانہ نے بہار پولیس پر مناسب تفتیش نہ کرنے اور ملزمین کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمین کو بی جے پی اور جے ڈی یو کی حمایت حاصل ہے۔ اسی دوران گزشتہ دنوں بہار کی سانس، ٹیکنالوجی اور تکنیکی تعلیم کی وزیر شیلا منڈل کی تصویر منظر عام پر آءی ہے، جس میں وہ مگنوسنگھ کے ساتھ نظر آ رہی ہیں، جس نے روضہ دار روشن خاتون کو باندھ کر بے دردی سے زدو کوب کیا۔