ذرائع
آئے دن ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ان پر تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے. اتر پردیش کے ضلع Meerut کے کِٹھور تھانہ علاقے کے سداللہ پور گاؤں میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں گھر گھر جا کر کپڑے فروخت کرنے والے مسلم شخص جس کا نام واسد ہے ان کے ساتھ مبینہ طور پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر مارپیٹ کی گئی۔اطلاعات کے مطابق واسد، جو برسوں سے اسی علاقے میں کپڑے فروخت کرتے آ رہے ہیں، معمول کے مطابق سداللہ پور گاؤں پہنچے تھے۔ اسی دوران موہت
نامی ایک نوجوان نے ان سے نام پوچھا اور مسلمان ہونے کی بنیاد پر مبینہ طور پر بدسلوکی شروع کر دی۔ واسد نے بتایا کہ موہت نے انہیں زدوکوب کیا اور جان سے مارنے کی کوشش کی، اور کہنے لگا کہ ہمارے گاؤں میں ملّوں کا آنا منع ہے۔ واسد نے پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا کہ موہت نے ان کے ساتھ گالی گلوج کی، بری طرح مارپیٹ کی اور ان کا رکشہ بھی چھین لیا۔ واسد کے مطابق وہ روزے کی حالت میں تھے اور بار بار کہتے رہے کہ وہ روزہ دار ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا۔ متاثرہ شخص نے کِٹھور تھانے میں شکایات کر ملزم موہت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔