ذرائع:
بہار کے ضلع مدھے پورہ سے ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک مسلم خاتون اور ان کی بیٹی پر تیزاب سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد دونوں شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ 55 سالہ زلیخہ خاتون اپنی 22 سالہ بیٹی اسماء پروین کے ساتھ ایک جیولری دکان پر گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق اسماء پروین کی شادی 24 مارچ کو طے ہے اور اسی سلسلے میں زلیخہ خاتون نے تقریباً دو سال قبل ایک جیولر کو زیورات تیار کرنے کے لیے سونا دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق جب ماں بیٹی اپنی دی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے جیولری کی دکان پر پہنچیں تو دکاندار ونود سوارنکر نے مبینہ طور پر
دونوں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا۔ اس اچانک حملے کے بعد علاقے میں ہنگامہ مچ گیا اور دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے ملزم کی بیوی کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم اب بھی مفرور بتایا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے زیر بحث ہے اور لوگ اس پر سخت ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سنگین واقعات پر قومی سطح کے بڑے میڈیا اداروں میں زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔