حیدرآباد: جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کو خاتون کے ساتھ جنسی ہراسانی اور رقم کی وصولی کے الزامات کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم معطلی کے احکامات فوری طورپر جاری نہیں کئے گئے لیکن باوثوق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کمشنر پولیس وی سی سجنار نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً دو سال قبل ایک خاتون اپنی شکایت درج کروانے کے لیے انسپکٹر سے رجوع ہوئی تھی ۔ خاتون کا الزام ہے کہ اس دوران آفیسر نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور زبردستی ان کا اسقاطِ حمل بھی کروایا۔بعد ازاں متاثرہ خاتون نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انسپکٹر نے انہیں نجی ویڈیوس کے ذریعے بلیک میل کیا
اور 2 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مختلف اقساط میں انسپکٹر کو ہزاروں روپے بھی ادا کیے رقم کی ادائیگی کے اسکرین شارٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں یہ شواہد انھوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو پیش کئے اور تفصیلات سے واقف کروایا۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ عرصے تک انسپکٹر پولیس اور خاتون ایک ہی گھر میں مقیم تھے۔ بعد ازاں مذکورہ آفیسر نے مبینہ طور پر خاتون سے پیچھا چھڑانے کے لیے مختلف کوششیں کیں۔ان الزامات کے بعد محکمہ جاتی کارروائی کے تحت سرینواسولو ریڈی کو معطل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مزید قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔