اتر پردیش 1 اپریل 2026 (اعتماد نیوز) غازی آباد کے لونی علاقے میں ایک سال قبل ہونے والی بین مذہبی محبت کی شادی خونی سانحے میں بدل گئی، جہاں 32 سالہ نوجوان نتن راتھی کو مبینہ طور پر سسرالی رشتہ داروں نے تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ پولیس نے دو ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق نتن راتھی نے ایک سال قبل مسکان نامی لڑکی سے آریہ سماج مندر میں شادی کی تھی، جس پر دونوں
خاندانوں کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا۔ الزام ہے کہ 30 مارچ کو صلح کے بہانے اسے بلایا گیا اور راستے میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، جبکہ اس کا بھائی کسی طرح بچ نکلا۔واقعے کے بعد اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔