ذرائع:
مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور کے علاقے سیروہی میں پیش آئے حالیہ تشدد نے ایک بار پھر امن و امان اور قانون کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، جھڑپ کی شروعات عبادت گاہوں پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو لے کر ہونے والے تنازع سے ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد شکل اختیار کر گئی۔ عینی شاہدین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران ایک منظم ہجوم نے مسلم گھروں کو نشانہ بنایا، گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی، آگ لگائی گئی اور سامان لوٹا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس تیز دھار ہتھیار اور آتش گیر مواد بھی موجود تھا۔ مقامی افراد کے مطابق ایک طرف پولیس کارروائیاں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف شدت پسند عناصر کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔مقامی
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت شدید پریشانی اور خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حال ہی میں ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بعض مقامات پر مشتعل ہجوم نے مسلم گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، گھروں کو آگ لگا دی، مذہبی نعرے بازی کی، نازیبا زبان استعمال کی اور خواتین کے خلاف سنگین دھمکیاں بھی دیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان واقعات کے باوجود کئی مسلمانوں کو ہی گرفتار کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ تنازہ ایک مندر سے شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہندو مسلم تنازے میں تبدیل ہوگیا، آوازوں کو لے کر شروع ہوا یہ تنازہ شدت اختیار کر گیا. وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح شر پسنداناصیر جے ایس آر کے نعرے لگاتے کھلے عام غنڈہ گردی کرتے ہوئے مسلمانوں کے گھروں کو جلا رہے ہیں اور تلواریں ہاتھوں میں لئے گھروں پر حملہ کر رہے ہیں.