ذرائع:
چھتیس گڑھ حکومت نے مالی بدعنوانیوں، اختیارات کے غلط استعمال اور پولیس محکمے سے متعلق خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزامات پر خاتون ڈی ایس پی کلپنا ورما کو معطل کر دیا ہے۔ اس وقت ضلع دانتے واڑہ میں خدمات انجام دینے والی ڈی ایس پی کلپنا ورما کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے محکمہ داخلہ نے باضابطہ احکامات جاری کیے ہیں۔ رائے پور سے تعلق رکھنے والے تاجر دیپک ٹنڈن کے ساتھ ڈی ایس پی کلپنا ورما کے تنازعہ کے بعد حکومت نے ایڈیشنل ایس پی رتبہ کے عہدیدار سے ابتدائی جانچ کروائی تھی۔ جانچ کے دوران افسران نے تقریباً 1,475 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلپنا ورما نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کیے، پولیس محکمے سے متعلق نہایت حساس اور خفیہ معلومات واٹس ایپ چیٹس کے ذریعے مذکورہ تاجر کو فراہم کیں اور غیر قانونی طریقوں سے
بڑی مقدار میں اثاثے جمع کیے۔ یہ تمام اقدامات چھتیس گڑھ سول سروسز رولز 1965 کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔اس کیس میں تاجر دیپک ٹنڈن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دیپک ٹنڈن نے گزشتہ دسمبر (2025) میں شکایت درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کلپنا ورما نے انہیں ’’محبت کے جال‘‘ میں پھنسا کر 2021 سے اب تک تقریباً 2.5 کروڑ روپے وصول کیے ان میں 2 کروڑ روپے نقد، ایک لگژری کار، 12 لاکھ روپے مالیت کی ڈائمنڈ رنگ اور 5 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اپنے بھائی کے نام پر ہوٹل شروع کرنے کے لیے بھی کلپنا ورما نے بڑی رقم لی تھی۔جانچ کے دوران حکام نے پایا کہ کلپنا ورما کے بیانات میں کئی تضادات موجود ہیں۔ مالی لین دین سے متعلق وہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکیں، جبکہ واٹس ایپ چیٹس میں اہم خفیہ معلومات کے انکشاف کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔