عادل آباد کے پِٹل واڑہ علاقہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کے قتل کا معاملہ ڈیڑھ ماہ بعد منظرِ عام پر آیا، جس سے ضلع بھر میں سنسنی پھیل گئی۔عادل آباد پولیس نے مالی تنازعہ پر خاتون کے قتل کے معاملہ کو تکنیکی شواہد سے حل کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کی کاروائی میں ڈیڑھ ماہ کی تاخیر پر عوامی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے تھے۔ آخر کار پولیس نے معاملے کو حل کرلیا۔ ضلع ایس پی عادل آباد اکھیل مہاجن آئی پی ایس نے ماوالا پولیس اسٹیشن میں جمعرات کے روز میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تفصیلات کا انکشاف کیا۔انہوں نے بتایا کہ ماوالا پولیس اسٹیشن حدود میں درج خاتون کے لاپتہ ہونے کے معاملے کو ضلع پولیس نے قتل کیس کے طور پر حل کرتے ہوئےاس سلسلے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ۔ضلع ایس پی نے بتایا کہ مرکزی ملزم نے خاتون سے تقریباً 8.8 لاکھ روپے نقد اور 8.5 تولہ سونا ہڑپ لیا جب مقتولہ نے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رقم اور سونا واپس طلب کیا تو ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت اسے قتل کر دیا۔ضلع ایس پی نے بتایا کہ اندرویلّی کا ساکن 38 سالہ مرکزی ملزم محمد فاروق، ولد محمد رحیم، اور اندرویلّی کا ساکن 26 سالہ بسی رمیش، ولد بسی کانا کو گرفتار کرتے ہو ملزمان کے قبضے سے دو موبائل فون بھی ضبط کیے۔ضلع ایس پی نے بتایا کہ 29 نومبر 2025 کو مقتولہ کی بہن سمینہ یاسمین کی شکایت پر پِٹّل واڑہ کی رہائشی ان کی بہن 39سالہ عمرانہ جبین کے 26 نومبر سے لاپتہ ہونے کا مقدمہ ماوالا پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ عمرانہ جبین کا اندرویلّی کے
رہائشی محمد فاروق خان سے مالی لین دین کا تنازعہ چل رہا تھا۔انہوں نے بتایا ضلع پولیس نے اس حساس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ماوالا سرکل انسپکٹر کرّہ سوامی کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ تکنیکی شواہد اور گہرے تجزیے کی بنیاد پر 14 جنوری 2026 کو دسنا پور سبزی مارکیٹ کے قریب مرکزی ملزم محمد فاروق خان اور اس کے ڈرائیور بسی رمیش کو حراست میں لیا گیا تفتیش کے دوران دونوں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ملزمان نے بتایا کہ 26 نومبر 2025 کو پِٹّل واڑہ میں مقتولہ کے گھر پر بسی رمیش نے اس کے پیر پکڑے جبکہ مرکزی ملزم محمد فاروق خان نے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ضلع ایس پی نے مزید بتایا کہ قتل کے بعد ملزمان نے لاش کو کرائے کی ایرٹیگا کار میں مہاراشٹر کے کنوٹ تعلقہ کے سارکھنی کے قریب جنگلاتی علاقے میں ایک سڑک کے کلورٹ کے قریب گڑھا کھود کر دفن کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر ریونیو اور محکمہ صحت کے اشتراک سے تحصیلدار کی موجودگی میں لاش نکالی گئی۔ اگرچہ لاش کافی حد تک گل چکی تھی، تاہم مقتولہ کے کپڑوں کی بنیاد پر اہل خانہ نے شناخت کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی جمع کیے گئے ہیں۔ابتدا میں لاپتہ ہونے کے طور پر درج اس کیس کو اب بی این ایس دفعہ 103 (قتل) اور 238(3)(5) کے تحت تبدیل کر کے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ضلع ایس پی نے کہا کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلانے کے لیے تمام ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ ۔اس موقع پر تربیتی آئی پی ایس راہل کانت، ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی، ماوالا سرکل انسپکٹر کرّہ سوامی، ایس آئی مدھو کرشنا کے علاوہ دیگر پولیس عملہ موجود تھا۔