the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

ینگون 3 ستمبر [ایجنسی]میانمار کی ایک عدالت نے سرکاری رازداری قانون کی خلاف ورز ی کے معاملے میں رائٹر کے دو نمائندوں کو مجرم قرار دیا ہے اورا نہیں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ینگون کے شمالی ضلع کی ایک عدالت کے جج اے لیون نے کہا کہ وا لون(32) اور کیاو سو او(28) نے خفیہ دستاویز اکٹھا کرکے حکومت کے سرکاری رازداری قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس طرح دونوں صحافی ملکی راز فاش کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس مقدمے کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
جج نے کہا" ملزمین نے سرکاری رازداری قانون(3.1سی) کی خلاف ورزی کی اور ان کے خلاف سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اس سزا میں دونوں صحافیوں کے 12 دسمبر سے جیل میں گزارے دنوں کوبھی شمار کیا جائے گا "۔
صحافیوں نے عدالت کو بتایا کہ دو پولیس افسران نے انہیں شمالی ینگون میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں 12 دسمبر کو یہ دستاویز دئیے تھے جس کے فورا بعد دوسرے پولیس افسران نے انھیں گرفتار کر لیا۔بتایا جاتا ہے کہ جس وقت انہیں حراست میں لیا گیا، یہ دونوں ملکی فوج کے ہاتھوں دس مسلم مردوں کے مبینہ قتل کے ایک واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوششوں میں تھے۔
والون نے عدالت میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں، "میں جمہوریت اور آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہوں۔ میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔" ان دونوں صحافیوں کے وکیل نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا، "یہ آزادی صحافت، جمہوریت اور میانمار کے لیے نقصان دہ ہے"۔
دونوں صحافی خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت جال میں پھنسایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح میانمار میں آزادی صحافت کی صورتحال مزید ابتر ہو گی۔
جس مقدمے کو فیصل کرتے ہوئے یہ سزا سنائی گئی ہے اُس کا پس منظر گزشتہ برس میانمار میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد راخین ریاست سے روہنگیا مسلم اقلیت کی بے دخلی ہے۔
میانمار میں امریکہ کے سفیر اسکاٹ مارسیل نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا " میں وا لون اور کیاؤ سو او اور ان کے اہل خانے کے تیئں دکھی ہوں اور میانمار کے لئے بھی دکھ ہے"۔
انہوں نے کہاصحافیوں کو سزا سنایاجانا ان سبھی لوگوں کے لئے مایوس کن ہے جو میڈیا کی آزادی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو یہ پوچھنا ہوگا کہ کیا اس کاروائی سے میانمار کے عدالتی نظام میں لوگوں کا اعتماد بڑھے گا یا کم ہوگا۔
پچھلےہفتے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میانمار کی حکومت نے راخین میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ نتیجے میں راخین سے تقریباً سات لاکھ روہنگیاوں کو ہجرت کرنی پڑی تھی۔ میانمار کی حکومت اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی اس رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے۔
میانمار نے برطانیہ کے سفیر دان جگا نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لئے بہت ہی مایوس کن ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا ایشیا کپ 2018 ٹرافی

انڈیا
پاکستان
بنگلہ دیش
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.