the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

حیدرآباد۔16۔دسمبر (اعتماد نیوز)16دسمبر کی رات کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ اس رات نربھیا کے ساتھ چلتی بس میں رونگٹے کھڑے کر دینے والی حرکت ہوئی۔اس واقعہ نے پورے ملک کو چھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دل دہلا دینے اس واقعہ کو آج سے پورا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔پورا ملک اسکے خلا ف شدید احتجاج کیا ۔چاروں طرف سے اسلامی قوانین کے نفاذ کی مانگ کی گئی۔آخر کار ملزمین کو سزائے موت بھی سنائی گئی ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد بھی عصمت ریزی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آخر ایسا کیوں ‘‘ملک میں اس جرم کی اس قدر مخالفت کے باوجود انسان نما ان جانوروں کے رویہ میں تبدیلی کیو ں نہیں آئی ؟اس لڑ کی کے والد نے میڈیا سے کہا کہ آج بھی انکے آنسو نہیں رکے آخر وجہ کیا ہے۔ ؟عدلیہ کی جانب سے ان چاروں افراد کو سزائے موت کے باوجود انکے گھر والے اس سے غیر مطمئن ‘‘‘ دن بدن ملک میں خواتین کی عصمت ریزی کی جارہی ہے۔ مظفر نگر میں بھی معصوم خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ‘‘‘لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی کہیں پولیس کی لا پرواہی ‘‘کہیں انسان نما ان جانوروں کے حیوانی رویہ .... اسکے ذمہ دار کون ہیں۔ فحاشی اور عریانیت کو فوع دینے والے فلم اسٹارز بھی اس کی کھلی مذمت کر رہے ہیں اور اپنے جد و جہد کے جاری رکھنے کا کھوکھلہ دعوی کر رہے ہیں ۔کیا اس صورت حال میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے خواتین آج بھی محفوظ ہیں۔ مذہبی تعلیمات سے دوری ‘‘‘ خواتین کا احترام ‘‘‘انسانی ہمدردی ‘‘‘عدم مساوات ‘‘‘ اور مغربی تہذیب سے بڑھتی دلچسپی ‘‘‘ فلم اسٹارز کی زنگیوں سے غیر معمولی لگاؤ یہ ایسے وجوہات ہیں جنکے خاتمہ کے بغیر یہ کہنا مشکل ہے کہ عصمت ریزی کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔اور خواتین محفوظ ہیں۔ 

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا ایشیا کپ 2018 ٹرافی

انڈیا
پاکستان
بنگلہ دیش
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.